Nov ۰۵, ۲۰۱۵ ۱۹:۵۹ Asia/Tehran
  • اربیل میں اسلحے سے بھرے طیاروں کے اترنے کی تحقیقات کا مطالبہ
    اربیل میں اسلحے سے بھرے طیاروں کے اترنے کی تحقیقات کا مطالبہ

عراق کے ایک رکن پارلیمنٹ اسکندر وتوت نے اسلحے سے بھرے طیاروں کو عراقی کردستان کےعلاقے کی طرف پرواز کی اجازت دیئے جانے کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

عراقی خبر رساں ایجنسی براثا نے جمعرات کے روز اسکندر وتوت کے حوالے سے، جو عراقی پارلیمنٹ کے دفاعی اور سیکورٹی کمیشن کے رکن بھی ہیں، رپورٹ دی ہے کہ اسلحے کے حامل دو ہوائی جہازوں کو بغداد ہوائی اڈے پر روک لیا گیا تھا لیکن بعد میں ان ہوائی جہازوں نے عراقی کردستان کی طرف پرواز کی اور اس علاقے میں ان جہازوں سے ہتھیار اتارے گئے۔

اسکندر وتوت نے کہا کہ اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ عراقی کردستان کی علاقائی انتظامیہ کے بعض عہدیداروں کے کہنے پر دو طیاروں کے ذریعہ ہتھیار بھیجے گئے تھے اور بغداد حکومت کو اس سلسلے میں تحقیقات کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ بغداد حکومت کو یہ بھی تحقیقات کرنی چاہئیں کہ ان ہوائی جہازوں کی منزل مقصود کہاں تھی اور کہاں سے یہ جہاز چلے تھے نیز ہتھیار منگانے والا فریق کون ہے۔

واضح رہے کہ ہتھیاروں کے حامل دو ہوائی جہازوں کو بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر روک لیا گیا تھا لیکن بعد میں عراقی کردستان علاقے کے شہر اربیل کی طرف پرواز کرنے کی ان کو اجازت مل گئی تھی۔ دریں اثنا عراقی پارلیمنٹ کے دفاعی اور سیکورٹی کمیشن کے سربراہ حاکم الزاملی نے کہا ہے کہ مذکورہ طیاروں میں ایک کینیڈا کا جبکہ دوسرا طیارہ سوئیڈن کا تھا۔

ٹیگس