Dec ۲۰, ۲۰۱۹ ۱۰:۴۶ Asia/Tehran
  • پرویزمشرف کا فیصلہ عدلیہ پر خودکش حملہ ہے: معاون خصوصی احتساب

پاکستان کے وزیرقانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ جسٹس وقار سیٹھ مینٹلی ان فٹ ہیں انہیں کام کرنے سے فوری روک دیا جائے۔

پاکستان کےاٹارنی جنرل انور منصور کا کہنا ہے کہ حکومت مشرف کے خلاف فیصلہ سنانے والے ججز کے خلاف ایکشن لے گی۔

غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کے فیصلے پر اپنے بیان میں اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے درخواست دینی پڑے گی، خصوصی عدالت کے فیصلے سے پاک فوج کو اٹیک کیا گیا، خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کرسکتے۔

دوسری جانب معاونین خصوصی فردوس عاشق اعوان اور شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرقانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف سے متعلق خصوصی عدالت کا تفصیلی فیصلہ آیا جس میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اگر پرویز مشرف کو گرفتار نہ کرسکیں تو ان کی لاش کوتین دن تک ڈی چوک میں لٹکایاجائے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سرعام پھانسی کی انسانی اور مذہب میں کوئی گنجائش نہیں اور کسی جج کو لاش لٹکانے کا فیصلہ دینے کا کوئی اختیار نہیں، جج وقار سیٹھ نے بہت غلط آبزرویشن دی ہے، جسٹس وقار سیٹھ مینٹلی ان فٹ ہیں انہیں کام کرنے سے فوری روک دیا جائے۔

معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اداروں نے بھی قانون کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہے لیکن پرویز مشرف کیس کے تفصیلی فیصلے کے پیرا 66 میں تمام قانون کو بالائے طاق رکھ  دیا گیا، آج کا تفصیلی فیصلہ پڑھنے کے بعد بحیثیت قانون کے طالب علم میرا سر شرم سے جھک گیا اور بالخصوص پیرا 66 پوری دنیا میں شرمندگی کا باعث ہے۔

معاون خصوصی احتساب نے کہا کہ جسٹس وقارسیٹھ کے ہاتھوں اور بھی بہت سارے بے گناہ لوگوں کی زندگیاں ہیں، فیصلے سے کیس کو خراب کر کے کچھ لوگوں کو فائدہ دیا گیا ہے، اس طرح کا فیصلہ عدلیہ پر خودکش حملہ اور شرعی قوانین اور بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے، وفاقی حکومت کو تفصیلی فیصلے سے اور بھی تحفظات ہیں اور اس کے خلاف اپیل بھی کریں گے۔

در ایں اثناء پاکستانی فوج کے ترجمان میجرجنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کیس کے حوالے سے کچھ دیرپہلےآرمی چیف کی وزیراعظم سے تفصیلی بات ہوئی ہے، پرویز مشرف کیس کے تفصیلی فیصلےسے وہ خدشات درست ثابت ہوگئے جن کا پہلے اظہار کیا تھا، یہ فیصلہ اور بالخصوص اس میں استعمال کیے گئے الفاظ انسانیت، مذہب، تہذیب اور کسی بھی اقدار سے بالاتر ہیں۔

ٹیگس

کمنٹس