Oct ۲۹, ۲۰۲۱ ۲۰:۲۵ Asia/Tehran
  • ٹی ایل پی کو مزید قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی: حکومت پاکستان

اسلام آباد حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کو قانون شکنی کی مزید اجازت نہیں دی جائے گی ۔

جمعے کو اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔ اس اجلاس میں وفاقی وزرا، قومی سلامتی کے مشیر، چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی اور دیگر اعلی سول اور عسکری عہدیداروں نے شرکت کی۔اجلاس میں ملک میں امن و امان کی حالت اور تحریک لبیک پاکستان کے احتجاجی مارچ سے پیدا ہونے والی سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اس اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کسی بھی گروہ اور عنصر کو امن عامہ کی صورتحال بگاڑنے اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اجلاس کے بعد ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا گیا کہ ٹی ایل پی کو مزید کوئی رعایت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق سیکورٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کو قانون کی عمل داری میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بیان کے مطابق سیکورٹی اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ریاست ٹی ایل پی سے آئین اور قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات کرے گی اور کسی بھی غیر آئینی اور بلاجواز مطالبے کو تسلیم نہیں کرے گی۔

یاد رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے کارکن احتجاجی مارچ کی شکل میں اسلام آباد کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ مارچ کے آغاز میں لاہور میں ٹی ایل پی کے کارکنوں کے حملے میں متعدد پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔ ٹی ایل پی کے احتجاجی مارچ کی وجہ سے گوجرانوالا میں آٹھ دن سے معمول کی سرگرمیاں معطل اور سرکاری نیز غیر سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔ اس کے علاوہ راولپنڈی اور اسلام آباد جانے والی اہم شاہراہیں بند کردی گئی ہیں جبکہ دونوں جڑواں شہروں میں سخت سیکورٹی اور مختلف چوراہوں اور شاہراہوں پر کنٹینر لگاکے رکاوٹیں کھڑی کئے جانے کے نتیجے میں عوام کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔

ٹیگس