Mar ۲۸, ۲۰۲۲ ۰۹:۳۴ Asia/Tehran
  • پاکستان میں سیاسی ہلچل، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

پاکستانی قوم کی تمام نظریں اب قومی اسمبلی کے اجلاس پر مرکوز ہیں جس کے آج (پیر کو) ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی قرارداد اور حکومت کا پیش کردہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام سے متعلق آئینی ترمیم بل شامل ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اتوار کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ اگر قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر پیر کو تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو اس پر ووٹنگ 4 اپریل کو ہو گی، ان کا اشارہ تھا کہ حکومت اس عمل میں مزید تاخیر کر سکتی ہے۔

قواعد کے تحت جس دن سے قرارداد پیش کی جاتی ہے، اس پر 3 روز سے پہلے یا 7 روز بعد ووٹ نہیں دیا جاسکتا۔

وزیر داخلہ کے بیان سے پتا چلتا ہے کہ جب بھی اسپیکر اس کو پیش کرنے کی اجازت دیں گے تو حکومت قرارداد پر ووٹنگ کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت لے گی۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اسپیکر کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے میں مزید تاخیر کی صورت میں قومی اسمبلی کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

جمہوری وطن پارٹی کے شاہ زین بگٹی کے حکمراں اتحاد سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ کے 342 رکنی ایوان زیریں میں حکومت کے ارکان کی تعداد اب کم ہو کر 178 ہو گئی ہے جب کہ اپوزیشن کو اب 163 ایم این ایز کی حمایت حاصل ہے۔

مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، تین بڑے حکومتی اتحادی جن میں 17 اراکین قومی اسمبلی ہیں، انہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ کس طرف ہیں، یہ جماعتیں اب بھی حکومت اور اپوزیشن دونوں جماعتوں سے مذاکرات کر رہی ہیں۔

اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے ایک درجن سے زائد منحرف ایم این ایز پہلے ہی حکومتی پالیسیوں پر اپنی تنقید کے ساتھ کھل کر سامنے آچکے ہیں، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے ارکان کے طور پر نااہل ہونے کی قیمت پر بھی اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کر سکتے ہیں۔

یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے کہ جب پی ٹی آئی کو اپنے اتحادیوں اور پارٹی کے اندر منحرفین کی حمایت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔

 

ٹیگس