سیاسی دباؤ ایران کے پرامن جوہری حق کو کمزور نہیں کر سکتا: ترجمان وزارت خارجہ
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پر امن ایٹمی توانائی کے استعمال کا ایران کا حق ایک ذاتی اور اٹوٹ حق ہے اور کوئی سیاسی دباؤ یا موقف اس حق کو کمزور نہیں کر سکتا۔
سحرنیوز/ایران: وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی کے قانونی ڈھانچے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ شروع سے ہی جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے مقصد سے وضع کیا گیا تھا اور اس معاہدے کے آرٹیکل چار میں تمام رکن ممالک کے لئے جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے حق کو تسلیم کیا گیاہے۔
انہوں نے انیس سو ستر سے این پی ٹی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی رکنیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ان تمام برسوں میں اپنی ذمہ داریوں پر عمل کیا ہے اور اس معاہدے میں بیان کردہ حقوق سے بہرہ مند ہونے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تاہم بعض جوہری ہتھیار رکھنے والے ملکوں کی یکطرفہ اور سیاسی وضاحتیں، اس بات کا باعث بنی ہیں کہ جوہری ہتھیاروں کا پرامن استعمال کرنے والے ملکوں کے ساتھ بدگمانی اور بدنیتی سے پیش آیا جائے-
مغربی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں سے پاک زون بنانے کے لیے ایران کی انیس سو چوہتر کی کاوشوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام ہمیشہ شفاف رہا ہے اور جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی نے سیف گارڈ معاہدے کے مطابق اس کی مسلسل نگرانی کی ہے۔ اس پروگرام کی نوعیت کے بارے میں کیے گئے دعوے، بنیادی طور پر ایران کو ڈرانے دھمکانےاور سیاسی دباؤ کے لیے ہیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد ایجنسی کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کا یہ جارحانہ اقدام، جوہری عدم پھیلاؤ کی تاریخ میں ایک انتہائی گھناؤنا اور جارحانہ اقدام تھا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور ایجنسی کو اس جارحیت کی مذمت کرنی چاہیے تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا اور اس مسئلے نے ایجنسی کے ساتھ ایران کے تعلقات کو متاثر کیا۔
انہوں نے ایجنسی کے ساتھ ایران کے تکنیکی تعاون کے بارے میں بھی کہا کہ جن تنصیبات کو نقصان نہیں پہنچا ہے ان کا معائنہ معمول کے مطابق جاری ہے، لیکن نقصان پہنچنے والی تنصیبات کے سلسلے میں، ایک واضح طریقہ کار کا فقدان اور سیفٹی کے تحفظات کی وجہ سے، معمول کے طریقہ کار پر عمل درآمد ممکن نہیں ہے۔
ادھرگزشتہ روز بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے کہا کہ ایران کو پرامن ایٹمی توانائی رکھنے کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے دعوی کیا کہ ایران کے لیے توازن نہ صرف صلاحیتوں کے لحاظ سے بلکہ بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے بھی تبدیل ہوگيا ہے جو یا تواب موجود نہیں ہے یا اسے شدید نقصان پہنچا ہے۔
گروسی نے کہا کہ ہم ایران میں ان تنصیبات کا معائنہ کر رہے ہیں جن پر بارہ روزہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل نے حملہ نہیں کیا تھا
گروسی کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انہوں نے ایران اور اس کے پرامن ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کبھی بھی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ موقف اختیار نہیں کیا جس کے نتیجےمیں ایران کی پر امن جوہری تنصیبات پر امریکہ اور صیہونی حکومت کے حملوں کی راہ ہموار ہوئی اور آئی اے ای اے نے اس حملے کی مذمت بھی نہیں کی-