روس کے ساتھ محاذ آرائی کے خواہاں نہیں: نیٹو
نیٹو کے سیکریٹری جنرل ینس اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ مغربی ممالک روس کے ساتھ محاذ آرائی کے خواہاں نہیں۔
جرمن اخبار دی ویلٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے، ینس اسٹولٹن برگ نے کہا کہ نیٹو کے رکن ممالک کسی صورت میں روس کے ساتھ محاذ آرائی یا سرد جنگ شروع کرنا نہیں چاہتے۔انہوں نے دعوی کیا کہ بالٹک ریجن کے ملکوں اور پولینڈ میں نیٹو کی سرگرمیاں روس کے خلاف نہیں ہیں۔ اسٹولٹن برگ کا کہنا تھا کہ نیٹو روس کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے اور ماسکو کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسٹولٹن برگ نے یہ بات زور دیکر کہی کہ روس کے بارے میں نیٹو کی اسٹریٹیجک ایٹمی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ہم ایٹمی ہتھیاروں کے عدم استعمال پر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بات بھی زور دیکر کہی کہ جب تک دنیا میں ایٹمی ہتھیار موجودہیں نیٹو بھی ایک ایٹمی اتحاد کے طور پر باقی رہے گا۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب،سن دوہزار چودہ سے یوکرین کے معاملے پر روس اور نیٹو کے درمیان سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ نیٹو کے رکن ملکوں نے سن دوہزار چودہ سے بالٹک ریجن اور بحیرہ اسود میں فوجی مشقوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور روس کی سرحدوں کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ روسی حکام مشرقی سرحدوں پر نیٹو کی فوجی موجودگی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہیں۔