نیٹو، روس کے مقابلے کے لیے مغرب کا ہتھکنڈا ہے،ترجمان کریملن
کریملن کے ترجمان نے نیٹو کو روس کے مقابلے کے لیے مغربی ملکوں کا ایک ہتھکنڈا قرار دیا ہے۔
روس کے ایوان صدر کریملن کے ترجمان دی متر پسکوف نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ روس کو اپنی سرحدوں کے قریب نیٹوں کے پھیلاؤ پر بدستور تشویش لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس بھی اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے متواتر اور جچلے تلے اقدامات کر رہا ہے۔ دی متری پسکوف کا کہنا تھا کہ مغرب کی سلامتی اور استحکام میں نیٹو کے کردار کا جائزہ لیے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حساس حالات میں ہمیں اپنی سرحدوں کی جانب نیٹو کے پھیلاؤ پر سخت تشویش لاحق ہے اور ہم اس کے تدارک کی کوشش جاری رکھیں گے۔
روسی صدر کے ترجمان نے کہاکہ نیٹو کے عہدیدار سرد جنگ کے دور جسے بیانات دے رہے ہیں حالانکہ روس اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ سردجنگ کا دوراب ختم ہوچکا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل ہینس اسٹولٹن برگ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ رواں سال جولائی میں نیٹو کے رکن ملکوں کا اجلاس اس فوجی تنطیم کی پالیسی سازی کے حوالے سے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں نیٹو کےگرد و پیش میں پائے جانے والے نئے سیکورٹی حالات کے تناظر میں اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کھل کہا تھا کہ مشرقی یورپ میں نیٹو کی تقویت ضروری ہے۔