امریکہ کا پاکستان سے ایک بار پھر ڈومور کا مطالبہ
امریکا نے ایک بار پھر پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشتگردوں کو بے دخل کردے۔
امریکا کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے کہا ہے کہ پاکستان نے ابھی تک ملک کے اندر موجود شدت پسند تنظیموں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔
برطانوی ویب سائیٹ کے مطابق واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کمیٹی برائے دفاعی امور ’’ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی‘‘ کے اجلاس کے دوران جنرل جوزف ووٹل نے کہا کہ پاکستان نے امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے افغان امن زلمے خلیل زاد اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں معاونت کے لیے مثبت اقدامات کیے تاہم جنرل جوزف ووٹل کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ابھی تک ملک کے اندر موجود شدت پسند تنظیموں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کیے ہیں اور اسی طرح افغانستان میں موجود ایسے گروہ پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ سرحد کی دونوں طرف ایسے گروہوں کی کارروائیوں سے دونوں ممالک میں تشدد اور کشیدگی کو فروغ ملتا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف سنجیدہ کارروائی نہیں کرتا جس کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔
واضح رہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان نےکہا تھا کہ وہ امریکہ سے برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں اور امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے آگے نہیں جھکیں گے۔