Jun ۱۱, ۲۰۲۰ ۱۸:۵۹ Asia/Tehran
  • ٹرمپ مخالفت کی آگ کو بھڑکانے سے باز نہیں آ رہے

ایک ایسے وقت جب پورے امریکا اور دنیا کے مختلف ملکوں میں نسل پرستی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں -امریکی صدر نے اپنے ایک ٹوئٹ کے ذریعے اختلافات کی آگ کو مزید بھڑکا دیا ہے۔

رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کے خلاف تشدد کی ایک بار پھر حمایت کی ہے۔ انہوں نے سیاٹل شہر میں نسل پرستی کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور پولیس کے تشدد آمیز رویئے کے کے تعلق سے ایک ٹوئٹ کیا جس میں انہوں نے سیاٹل کے میئر اور ریاست واشنگٹن کے گورنر دونوں کو نالائق اور نکما قرار دے دیا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بدامنی پھیلانے والوں کو فوری طور پر روکا جائے۔نسل پرستی اور ناانصافی کے خلاف امریکہ کے  ایک سو چالیس سے زائد شہروں میں پچھلے چند ہفتوں سے مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام بارہا صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ اپنے بیانات سے اختلافات کی آگ کو مزید بھڑکا رہے ہیں۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ امریکی صدر کی پالیسیوں کی حمایت کرنے والے امریکی شہریوں کی تعداد میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ ہل نیوز نے گلپ سروے کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی عوام میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی حمایت کرنے والوں کا تناسب انچاس فی صد سے کم ہو کر انتالیس فی صد پر آ گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکی صدر کی مقبولیت میں کمی کا سبب سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام امریکی شہری کے قتل، کورونا کے بحران سے نمٹنے میں ٹرمپ انتظامیہ کی ناقص کاردگی اور اُس سے پیدا ہونے والی ناراضگی ہے۔

گلپ کے تازہ سروے کے مطابق ری پبلکن پارٹی کے حامیوں کے درمیان بھی صدر ٹرمپ کی کارکردگی کی حمایت میں سات فی صد کمی واقع ہوئی ہے جو پچھلے دو سال کے دوران  سب سے نچلی سطح پر ہے۔ صرف پانچ فی صد ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ کی کارکردگی پر اطمینان کا ظاہر کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پچیس مئی کو امریکہ میں ایک سفید فام پولیس افسر نے سیاہ فام امریکی شہری کو گلا گھونٹ کر قتل کر دیا تھا جس کے بعد سے امریکہ بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو بدستور جاری ہے۔ امریکی پولیس مظاہرین کو سرکوب کرنے کے لیے غیر اخلاقی اور غیر انسانی طریقے بھی استعمال کر رہی ہے جن میں مظاہرین کو گاڑی سے کچلنا اور اُن براہ راست فائرنگ  بھی شامل ہے۔

ٹیگس