Jun ۳۰, ۲۰۲۰ ۱۵:۲۵ Asia/Tehran
  • دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے لئے ٹرمپ کی حمایت

امریکی صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پیغام جاری کر کے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے پرتشدد اقدامات کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ہل ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے  اپنے ٹوئٹر پیج پر ریاست میسوری کے شہر سینٹ لوئیس میں نسل پرستی کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر ایک سفید فام جوڑے کی جانب سے اسلحہ تاننے کا ویڈیو ایک بار پھر جاری کی ہے۔ تیس سیکنڈ کے اس ویڈیو میں ایک سفید فام  جوڑا نسل پرستی کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر اسلحہ تان کر ان کو دھمکانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز بھی نسل پرستانہ نعروں کے ایک ویڈیو کے ساتھ امریکہ میں سیاہ فام شہریوں کے خلاف دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے تشدد آمیز اقدامات  کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

اس ویڈیو میں جسے ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹر پیج پر جاری کیا ہے ٹرمپ کا ایک حامی سفید فام اقتدار کے بارے میں نسل پرستانہ نعرے لگا رہا ہے مگر اتوار کا دن ختم ہونے سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ، اپنے ٹوئٹر پیج سے اس ویڈیو کلپ کو ہٹانے پر مجبور ہو گئے تاہم کچھ گھنٹوں کے بعد انھوں نے اس ویڈیو کو دوبارہ جاری کر دیا۔ وائٹ ہاؤس نے اس ویڈیو کو ہٹائے جانے کا جواز پیش کرتے ہوئے دعوی کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اس شخص کے نسل پرستانہ نعرے نہیں سنے تھے۔ امریکہ کے مختلف شہروں خاص طور سے ریاست مینے سوٹا کے شہر مینیا پولیس میں پولیس کے تشدد کے خلاف احتجاج و مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکہ کے ایک سفید فام پولیس افسر نے پیر پچیس مئی کو شہر مینیا پولس میں جارج فلائید نامی ایک سیاہ فام شہری  کو بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا تھا جس سے امریکی عوام اور خاص طور سے اس ملک کے سیاہ فام شہریوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کو مظاہرین سے سختی سے پیش آنے اور مظاہروں کو کچل دینے  کی ہدایات جاری کردیں۔ امریکہ میں حالیہ ہفتوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو زخمی اور یا انھیں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

دریں اثنا امریکی صدر ٹرمپ نے حکمراں ریپبلکن پارٹی میں اپنے مخالفین کی توہین کرتے ہوئے انھیں احمق اور بے وقوف قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں ریپبلکن پارٹی میں اپنی مقبولیت کی شرح پنچانوے فیصد ہونے کا دعوی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پارٹی میں باقی بچے پانچ فیصد افراد بھی وہ ہیں کہ جن کا صرف پارٹی میں نام لکھا ہوا ہے اور یا وہ افراد ایسے احمق و بے وقوف ہیں جو ٹرمپ کے اقدامات کو عملی دیکھنا نہیں چاہتے۔امریکی صدر ٹرمپ نے پارٹی میں اپنی مقبولیت بڑھنے کا ایسی حالت میں دعوی کیا ہے کہ امریکہ میں کئے جانے والے نئے سروے نتائج سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ امریکہ میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں خاصی کمی آئی ہے اور امریکی ووٹروں میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کی طرف رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

ٹیگس

کمنٹس