Feb ۰۹, ۲۰۲۱ ۲۲:۰۵ Asia/Tehran
  • امریکی کانگریس پر لشکر کشی کا نقصان

امریکی وزارت جنگ پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے نئے صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری کی سیکورٹی پر تقریبا چار سو اڑتیس ملین ڈالر کے اخراجات آئے ہیں۔

ہل جریدے کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت جنگ پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری کے موقع پر دو سو چوراسی ملین ڈالر سیکورٹی اہلکاروں اور ایک سو ننانوے ملین ڈالر دیگر کاروائیوں پر خرچ ہوئے ہیں۔

امریکی محکمۂ نیشنل گارڈ کے ترجمان وین ہال نے بھی عمل میں لائے جانے والے اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن امور پر اخراجات آئے ہیں ان میں رہائش، کھانا پینا، نقل و حمل، سیکورٹی اور سیکورٹی اہلکاروں نیز ضرورت کے سامان و اشیا کی منتقلی شامل ہے۔ 

امریکی کے سابق صدر ٹرمپ کے طرفداروں نے دھمکی دی تھی کہ وہ جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری کے موقع پر احتجاج و مظاہرہ کریں گے اور تقریب حلف برداری میں رخنہ اندازی کریں گے، اس دھمکی کے  بعد پچیس ہزار سے زائد نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کو سیکورٹی اور امن و امان کے تحفظ کے لئے واشنگٹن روانہ کیا گیا تھا۔

اس سے قبل چھے جنوری کو ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی کانگریس پر حملہ کر کے کئی گھنٹے کے لئے اس عمارت کو اپنے اختیار میں لے لیا تھا۔ اس حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد مارے گئے تھے۔

اس حملے کے بعد امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن نے چھے جنوری دو ہزار اکیس کو امریکہ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا تھا۔

دریں اثنا امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے اکثریتی دھڑے کے رہنما نے ٹرمپ کے مواخذے اور مواخذے کے عمل کے دوران ٹرمپ کو طلب کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔

روسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق چک شومر نے امریکی سینیٹ کے اجلاس میں اعلان کیا ہے کہ سینیٹ کے ریپبلکن رہنما مچ مک کانل کے تعاون کی بدولت مجموعی طور پر قوانین و ضوابط اور ٹرمپ کے دوسری مرتبہ مواخذے اور وقت کے بارے میں اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

شومر نے کہا کہ اس سلسلے میں جو طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے اس پر سب کا اتفاق ہے اور امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ کے مواخذے کے سلسلے میں انصاف کے دائرے میں اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔

امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ انھوں نے چھے جنوری کو اپنے طرفداروں کو اکسایا تھا اور ان کے طرفداروں نے امریکی کانگریس کی عمارت پر حملہ کر دیا۔ اس طرح ٹرمپ نے سنگین ترین جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

ٹرمپ کے مواخذے کا عمل آگے بڑھتا ہے تو وہ امریکہ کے پہلے ایسے صدر ہوں گے کہ جن کو اپنی چار سالہ صدارت کی مدت میں دو بار مواخذے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

 

ٹیگس