Dec ۰۷, ۲۰۲۱ ۱۸:۱۳ Asia/Tehran
  • کورونا وائرس کے خلاف یورپ کی نئی احتیاطی تدابیر

یورپی ملکوں میں کورونا کے نئے معاملات ایک بار پھر بڑھتے جا رہے ہیں اور یورپ کا ہر ملک اس سلسلے میں اپنے اعتبار سے احتیاطی تدابیر اختیار کر رہا ہے۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق اٹلی کی حکومت نے کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ایسے افراد کو خاص سرگرمیوں سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے جنھوں نے کورونا ویکسین نہیں لگوائی ہے۔اس فیصلے پر پیر کے روز سے عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ سینما ہالوں، اسٹیڈیموں اور ہوٹلوں میں کہ جہاں کا ماحول کافی حد تک بند ہوتا ہے صرف ایسے افراد کو ہی جانے دیا جائے گا کہ جن کے پاس کورونا ویکسین لگوانے کا ثبوت موجود ہوگا۔

حکومت اٹلی کی نئی ہدایات کے مطابق قانون پر عمل کرانے والوں، فوجی اہلکاروں اور اسکولوں کے پورے اسٹاف کو کورونا ویکسین لگوانا ضروری ہے۔ اس سے قبل یہ پابندی صرف طبی عملے کے افراد کے لئے ضروری تھی۔

ڈنمارک میں بھی نئے کورونا ویریئنٹ اومیکرون کے بڑھتے معاملات کی رپورٹ ملی ہے۔ اس ملک میں بھی اٹھارہ برس سے زائد عمر کے لوگوں پر کورونا ویکسین لگوانا ضروری قرار دے دیا گیا ہے۔

ادھر آسٹریا میں پیر کے روز سے لاک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے اور اس طرح یہ ملک یورپی یونین کا پہلا ایسا ملک بن گیا ہے جہاں نئے کورونا ویریئنٹ کے بڑھتے معاملات کے بعد ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا۔

جرمنی میں بھی اس ملک کے نقل و حمل کے وزیر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کرسمس کے دنوں میں سفر کرنے سے گریز کریں جبکہ یہ ملک نئے کورونا ویریئنٹ اومیکرون کا شروع سے ہی مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔جرمنی میں تقریبا اڑسٹھ اعشاریہ نو فیصد لوگوں کو کورونا ویکسین لگ چکی ہے البتہ یہ تناسب حکومت کے مطلوبہ ہدف یعنی پچہتر فیصد کے ویکسینیشن سے کم ہے۔

فرانس کی حکومت نے بھی اپنے ملک میں داخلے کی شرطیں سخت کر دی ہیں۔

اسپین میں بھی کرسمس کے موقع پر ایسے افراد کے سلسلے میں سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جنھوں نے کورونا ویکسین نہیں لگوائی ہے۔اسپین میں اسّی فیصد سے زائد لوگوں کو کورونا ویکسین کے ذریعے محفوظ بنایا جا چکا ہے تاہم اب اس ملک میں اومیکرون ویریئنٹ کے پھیلنے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

ہالینڈ میں بھی کورونا کی بندشوں کو نافذ کر دیا گیا ہے جن میں غیر ضروری تمام دکانوں اور ہوٹلوں کو شام پانچ بجے سے صبح پانچ بجے تک بند رکھنا شامل ہے۔

نیا کورونا ویریئنٹ اومیکرون جنوبی افریقہ سے شروع ہوا ہے اور چھے دسمبر تک پینتالیس ممالک اس ویریئنٹ کی لپیٹ میں آچکے تھے۔

ٹیگس