دورۂ روس کامیاب رہا، متعدد مسائل پر کامیاب گفتگو
پاکستان کے زیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دورۂ روس سے واپس آنے کے بعد مطمئن ہوں کہ دورے پر جانے کا فیصلہ درست تھا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب ہم ماسکو پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ پاکستان میں تبصرے شروع ہوگئے کہ دورے کا وقت غلط تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ محض قیاس آرائیاں تھیں، اس میں کوئی حقیقت نہیں تھی، دورے سے ہمارے جو مقاصد تھے وہ ہم نے حاصل کیے۔
شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ دورے پر جانے سے پہلے ہم نے وزیر اعظم ہاؤس میں ایک نشست کی جس میں اس صورتحال کا جائزہ لیا گیا، اس دورے میں سابق سفارت کاروں کو دعوت دی گئی اور دورے کے حوالے سے ان سے باقاعدہ مشاورت کی اور پھر دورے پر جانے کا حتمی فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان اور کشمیر کے معاملے پر روس کو اعتماد میں لینے کا یہ بہترین موقع تھا جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا، روس کا اس خطے میں بھی اہم اثر و رسوخ ہے، دورے کے بعد میں مطمئن ہوں کہ ہمارا فیصلہ درست تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دورۂ روس سے قبل امریکا نے ہم سے رابطہ کیا اور ہم سے معصومانہ سوال کیا جس کا ہم نے مؤدبانہ جواب دے دیا، امریکا کو ہم نے روس جانے سے پہلے ہی سمجھا دیا تھا کہ ہم روس کیوں جا رہے ہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے کریملن میں ملاقات ہوئی، یہ ساڑھے 3 گھنٹے طویل نشست تھی جس میں دونوں سربراہان نے مختلف امور پر بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نشست میں وزیر اعظم اور صدر پوتن نے پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات میں پچھلے چند برسوں کے دوران آنے والی بہتری پر تبادلہ خیال کیا۔
شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ دونوں سربراہان کی ملاقات میں علاقائی معاملات پر بھی بات چیت ہوئی جس کا مرکز افغانستان کو درپیش مسائل اور جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی اور استحکام تھا۔