Apr ۰۴, ۲۰۲۲ ۱۷:۴۴ Asia/Tehran
  • افغانستان میں خوراک کے مسئلے پر اقوام متحدہ کا انتباہ

اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے پناہ گزیناں نے افغانستان میں دو کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کی صحیح خوراک سے متعلق پائی جاںے والی تشویش دور کئے جانے کو اس ملک کا ایک حیاتی مسئلہ قرار دیا ہے۔

شفقنا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے نے اپنے ایک ٹوئٹ میں تاکید کی ہے کہ افغانستان میں دو کروڑ چوالیس لاکھ لوگوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا اور انھیں انسان دوستانہ امداد کی اشد ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے پناہ گزیناں نے کہا کہ انسان دوستانہ امداد دسیوں لاکھ افغانستان کے شہریوں کے لئے ایک حیاتی مسئلہ ہے اور وہ وقت آگیا ہے کہ جب افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہوا جائے۔

واضح رہے کہ عالمی برادری نے افغانستان میں طالبان کا اقتدار آنے کے بہانے امداد کی ترسیل بند کردی ہے اور یا اس امداد میں کمی کردی ہے اور اس ملک میں بھوک مری اور دسیوں لاکھ لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کے بارے میں عالمی اداروں کے بار بار کے انتباہات کے باوجود امداد کا سلسلہ ابھی تک آگے نہیں بڑھایا گیا ہے۔ جبکہ اس ملک کو غیر ملکی انسان دوستانہ امداد کی اشد ضرورت ہے۔ان سب مسائل و مشکلات اور اسی طرح بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کے انتباہات اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی اپیل کے باوجود امریکہ افغانستان کے اثاثے اور رقم واپس کرنے سے انکار کر رہا ہے۔

ٹیگس