Apr ۰۲, ۲۰۲۳ ۱۵:۱۲ Asia/Tehran
  •  جنگوں میں ملوث امریکہ نے دوسرے ممالک میں مداخلت کے لئے خصوصی بجٹ مقرر کردیا

امریکہ نے دوسرے ممالک میں مداخلت کے لئے خصوصی بجٹ مقرر کردیا ہے۔

سحر نیوز/ دنیا: امریکی صدر جو بائیڈن نے نام نہاد ڈیموکریسی اجلاس کے موقع پر کہا ہے کہ دوسرے ممالک میں ان کے بقول جمہوریت پھیلانے کے لئے نیا بجٹ مقرر کردیا ہے۔ اس آنلائن اجلاس کے دوران بائیڈن نے بتایا کہ یہ ہدف حاصل کرنے کے لئے وہ کانگریس سے مزید ساڑھے نو ارب ڈالر لیں گے۔ 

امریکی صدر نے کہا ہے کہ یہ رقم بین الاقوامی ترقیاتی تنظیم کے ایک ذیلی ادارے کے تحت خرچ کی جائے گی اور یہ کام امریکی وزارت خارجہ کی ہدایت کے تحت انجام پائے گا ۔  بائیڈن نے اس موقع پر دعوی کیا کہ ہماری دنیا کو اور بھی مستحکم جمہوریتوں کی ضرورت ہے۔

لاکھوں عراقیوں کا قتل عام کرنے والے امریکہ کے صدر نے مزید دعوی کیا کہ آزادی کے مشعل کو ہمارے لئے اور آئندہ کی نسلوں کے لئے جلتے رہنا چاہئے۔  امریکی حکومت نے دعوی کیا ہے کہ امریکی شہریوں کے ٹیکس سے حاصل شدہ یہ رقم دیگر ممالک میں ان کے بقول جمہوریت پھیلانے کے لئے استعمال کی جائے گی۔

امریکہ کی مدنظر آزادی صحافت، سچی خبروں تک رسائی، فرضی کمپنیوں کی شناخت حاصل کرنے کے لئے امریکی وزارت خزانہ کے ساتھ تعاون، واشنگٹن کے مدنظر انسانی حقوق کا حصول، جمہوریت پر مبنی اصلاحات اور آزاد انتخابات کا انعقاد وہ مبینہ اہداف ہیں جن پر یہ رقم صرف کی جائے گی۔ 

یاد رہے کہ سرد جنگ سے اب تک امریکہ کی پالیسی دیگر ممالک میں مداخلت پسندی اور برطانیہ جیسے اپنے اتحادیوں کے مفادات کو پورا کرنے پر استوار رہی ہے۔ مختلف ممالک کے خلاف جنگ چھیڑنا، فوجی بغاوتوں کا راستہ ہموار کرنا، دوست اور دشمن ملکوں میں سیاسی پارٹیوں، تنظیموں اور سیاستدانوں کو بدعنوانی میں مبتلا کرکے انہیں اپنے اہداف کے لئے استعمال کرنا، این جی او اور غیرسرکاری تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کو رقومات دیکر مغربی اور امریکہ کے مدنظر اہداف کا حصول، وہ اقدامات ہیں جس میں واشنگٹن نے مہارت حاصل کی ہوئی ہے۔

گذشتہ سال کی جانے والی ایک تحقیق کے پیش نظر امریکی حکومتوں نے سن سترہ سو چھیئتر سے لیکر سن دو ہزار انیس تک، تین سو بانوے بار مختلف ممالک میں براہ راست فوجی مداخلت کی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق، واشنگٹن کی سب سے زیادہ فوجی جارحیت، لاطینی امریکہ، کیریبیئن اور ایشین ممالک میں دیکھی گئی ہے۔ اس تحقیق میں شامل ماہرین نے کہا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ امریکی فوجی جارحیتوں کی شدت اور وسعت میں اضافہ ہوتا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، سن دو ہزار کے بعد امریکہ نے تیس ممالک میں فوج اتاری ہے یا پھر یا ان ممالک کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے۔ اس تحقیق میں شامل ماہرین نے کہا ہے کہ انسان دوستانہ اہداف، جمہوریت کی حمایت اور عالمی دہشت گردی کے خلاف اقدام وہ بہانے ہیں جن کی آڑ میں امریکی حکام ان فوجی مداخلتوں کو قانونی جواز دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لہذا امریکی صدر کی جانب سے مذکورہ ساڑھے نو ارب ڈالر کے بجٹ  کے اعلان کو صرف اسی زاویہ نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے۔

ٹیگس