May ۰۲, ۲۰۲۳ ۱۴:۱۸ Asia/Tehran
  • فائل فوٹو
    فائل فوٹو

عالمی یوم محنت کشاں کے موقع پر یورپی مزدوروں نے اس براعظم کے ہر شہر میں احتجاجی جلوس نکال کر سرمایہ دارانہ نظام کے روزانہ کی ناانصافی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔

 سحر نیوز/ دنیا:عالمی لیبر ڈے کے موقع پر فرانس میں بہت ہی بڑی ریلیاں نکالی گئیں جس میں مزدوروں اور ایمانوئل میکرون کی پالیسیوں سے پریشان عوام نے جم کر احتجاج کیا۔ 

فرانسیسی شہری ملک کی بگڑتی معاشی صورتحال اور ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کے خلاف ہاتھ میں بینر لئے ہوئے تھے اور ان پالیسیوں کو مزدوروں اور سرکاری اور نجی مراکز کے کارکنوں پر مزید دباؤ ڈالنے کے مترادف قرار دے رہے تھے۔ 

اس دوران پولیس نے پرامن مظاہروں کو ختم کرنے کے لئے تشدد کا سہارا لیا اور مزدوروں اور عام شہریوں پر آنسو گیس کے گولے برسائے اور انہیں زد و کوب کرکے منتشر کرنے کی کوشش کی۔  پولیس کا دعوی ہے کہ ان ہنگاموں میں ایک سو آٹھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور دو سو اکیانوے عام شہریوں اور مزدوروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ 

جرمنی کے مختلف شہروں میں بھی لیبر ڈے کی مناسبت سے ریلیاں نکالی گئیں تاہم آزادی اظہار کی دعوے دار جرمن حکومت کے حکم پر مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔  جرمن وزیر داخلہ نینسی فائیزر نے دعوی کیا کہ پولیس ان کے بقول پرتشدد مظاہروں اور ہنگامہ آرائیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔  

ادھر اٹلی سمیت یورپ کے مختلف ممالک میں بڑھتی ناانصافی اور جنگ پسندی سے پریشان عوام اور مزدوروں نے نیٹو، یورپی یونین اور امریکہ کا پرچم نذر آتش کیا۔ 

ہالینڈ میں بھی لیبر یونینوں کی جانب سے احتجاجی جلوس نکالے گئے اور معاوضہ بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا۔  وارسا میں لیبر ڈے ریلی، جنگ کے خلاف ریلی میں تبدیل ہوگئی اور مظاہرین نے یوکرین کی جنگ کے خاتمے اور یورپ کی عدم مداخلت کا مطالبہ کیا۔

   یاد رہے کہ اقتصادی، سیاسی اور سماجی حالات سے پریشان یورپی مزدوروں اور سرکاری اور نجی مراکز کے کارکن ایسی حالت میں احتجاج پر مجبور ہو رہے ہیں کہ ان کی حکومتین دنیا بھر میں انصاف کا ڈھنڈورا پیٹتے دکھائی دے رہی ہیں۔

 

ٹیگس