صدر ایران :ایران طویل عرصے سے دہشت گردی، تشدد اور بیرونی منفی پروپیگنڈے کا نشانہ بنتا رہا ہے
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران طویل عرصے سے دہشت گردی، تشدد اور بیرونی منفی پروپیگنڈے کا نشانہ بنتا رہا ہے۔
سحرنیوز/ایران: صدر پزشکیان نے ایران کے خلاف عائد کیے جانے والے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر بتیس ہزار افراد کے قتل کا ٹرمپ کا دعوی بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران نے مرنے والوں کی تفصیلات قومی شناختی کارڈ نمبروں کے ساتھ جاری کر رکھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک اور عوام کے دفاع کے دوران سلامتی اور مسلح افواج کے دو ہزار سے زائد اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا-
انہوں نے کہا کہ حالیہ ہنگاموں کے دوران ساڑھے تین سو سے زائد مساجد اور تین سو اسکولوں کو نذر آتش کیا گیا جس سے ظاہر ہےکہ یہ احتجاج نہیں بلکہ دہشت گردی کی کارروائیاں تھیں۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ مخالف قوتیں ملک کو کمزور کرنے کے لیے قابل سائنس دانوں اور ماہر افراد کو نشانہ بناتی ہیں، تاہم قومی اتحاد اور باہمی تعاون کسی بھی طاقت کو ایران کو مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
صدر پزشکیان نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ رہبر معظم انقلاب نے واضح طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتے کہا کہ یہ ایک ایسا موقف ہے جس کی بنیاد عقیدہ اور فقہ ہے، نہ کہ قابل تغیر سیاسی حربہ۔ سیاست داں مصلحت کی بنیاد پر بات کر سکتا ہے لیکن مذہبی رہنما عقیدے اور مذہبی حکم کے خلاف نہیں بول سکتا۔ جب اس طرح کے موقف کا اعلان کیا جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے راستے کو بنیادی طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔