عمران خان کے طبی و قانونی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ، چیف جسٹس سے مداخلت کی اپیل
پاکستان تحریک انصاف کے قید رہنماؤں نے چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر سابق وزیر اعظم عمران خان کے لیے انصاف اور مناسب طبی و قانونی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خط میں عمران خان کے علاج، ذاتی معالج تک رسائی اور اہل خانہ و وکلا سے ملاقات میں مبینہ رکاوٹوں پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
سحرنیوز/پاکستان: جیو نیوز کے مطابق یہ خط شاہ محمود قریشی کے ذریعے جاری کیا گیا جس میں ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور محمود الرشید کے نام شامل ہیں۔ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کو ان کے بنیادی حقوق کے مطابق طبی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں اور نہ ہی انہیں اپنے ذاتی ڈاکٹر سے باقاعدہ معائنہ کرانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
رہنماؤں نے لکھا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو خاندان کے افراد اور قانونی مشیروں سے ملاقات میں بھی مشکلات کا سامنا ہے، جس سے ان کے دفاع کے حق پر اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور قانون کے مطابق تمام سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں عمران خان کو آنکھ کا دوسرا انجکشن لگایا گیا۔ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور انہیں آنکھوں کی ایک سنگین بیماری سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن لاحق ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی تقریباً پچاسی فیصد تک متاثر ہو چکی ہے۔