صیہونی حکومت کی جنگی پالیسیوں پر اعتراض
غزہ میں صیہونی قیدیوں کے امور سے متعلق کمیٹی نے صیہونی حکومت کی جنگي پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی کابینہ قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی سمجھوتے کے بجائے اپنی توجہ غزہ میں مزيد فوجی بھیجنے پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔
سحرنیوز/دنیا: اسرائيلی قیدیوں کے امور سے متعلق کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کی کوشش کے بجائے اسرائیلی کابینہ کا اس علاقے میں فوجی کارروائیاں بڑھانے کا فیصلہ، ان کے خاندانوں کے لئے باعث تشویش ہےاس کمیٹی نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ جب اسرائیلی وزيرجنگ نے غزہ میں فوجی کارروائیاں بڑھانے کا اعلان کیا تو ہم وحشت کے عالم میں نیند سے اٹھ کر بیٹھ گئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کی فیملیاں، صیہونی کابینہ کو قیدیوں کے رہا نہ ہونے کا ذمہ دار سمجھتی ہیں اور انھیں اس کے ایک ذیلی مسئلے میں تبدیل ہونے پر تشویش ہے۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ صیہونی وزیراعظم نتن یاہو اور اس کے وزیرجنگ یسرائیل کاتس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ کس طرح فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر قیدیوں کی رہائی میں مدد کی جا سکتی ہے۔
یہ بیان اس وقت جاری ہوا ہے جب یسرائیل کاتس نے بدھ کو اعلان کیا کہ صیہونی فوج غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کا دائرہ بڑھائے گی اور ان کارروائیوں کا مقصد غزہ کے بڑے علاقوں پر تسلط حاصل کرنا ہے ۔ کاتس نے دعوی کیا کہ اسرائیلی فوج اس علاقے کو استقامتی فورسس اور اس کے بنیادی ڈھانچے سے پاک کرنے کے لئے پیشقدمی کرے گی۔