امریکا کے منی سوٹا میں ایک بار پھر مظاہرے، مظاہرین کے ساتھ پولیس کی بربریت
امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں ایک خاتون کی ہلاکت کے خلاف مظاہروں کے درمیان منیاپولیس سٹی حکام نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت بنیادی حقوق پامال کر رہی ہے۔
سحرنیوز/دنیا: امریکی میڈیا کے مطابق ریاست منی سوٹا کے عوام ایمیگریشن پولیس کی جانب سے ایک اور شہری پر کی جانے والی فائرنگ کے خلاف دوبارہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور مظاہرے کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے گزشتہ ہفتے امریکی ایمیگریشن پولیس نے ریاست منے سوٹا میں ایک کارووائی کے دوران تین بچوں کی ماں ایک سینتیس سالہ خاتون کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد امریکہ کی وفاقی اور ریاستی حکومت کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔
اس واقعے کے بعد سے منی سوٹا کے عوام مسلسل سڑکوں پر ہیں اور شہر سے ایمیگریشن پولیس کے انخلا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شہری آزادیوں سے متعلق امریکی تنظیم اے سی ایل یو نے وفاقی حکومت کے خلاف ایک پٹیشن دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمیگریشن پولیس نے شہری حقوق سے متعلق چوتھی آئينی ترمیم کی خلاف ورزی کی ہے۔ دوسری جانب ایمیگریشن پولیس کے اہلکار، مظاہرین کو آنسو گیس کے گولوں سے نشانہ بنا کر احتجاج کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
اسی دوران ایک مقامی عہدیدار نے ایمیگریشن پولیس کی کارکردگی پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کے اقدامات نے منے سوٹا سٹی کو شورش زدہ شہر میں تبدیل کر دیا ہے۔