میں جہاں بھی ہوسکا امن لاؤں گا: ٹرمپ کا مضحکہ خيزدعوی
امریکی صدر نے سفارت کاری کو اپنی ترجیح قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ " میں ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔"
سحرنیوز/دنیا: ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی شب امریکی کانگریس سے اپنے سالانہ خطاب میں ایران پر دہشت گردی کے الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ لیکن ایک بات طے ہے کہ میں ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔
جون 2025 میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ "صدر کے طور پر، میں جہاں بھی ہوسکا امن لاؤں گا۔ لیکن جہاں بھی ضرورت ہو امریکہ کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کروں گا۔"
ٹرمپ نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا جارحیت کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ "اسی لیے امریکی فوج نے گزشتہ سال آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے دوران ایرانی سرزمین پر حملہ کرکے ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو تباہ کر دیا تھا۔"
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران ایسے بیلسٹک میزائلوں پر کام کر رہا ہے جو امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں، اور کہا: "ایرانیوں نے ایسے میزائل بنائے ہیں جو یورپ اور بیرون ملک ہمارے اڈوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔"
ٹرمپ نےایران مخالف دعوؤں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ہم ایران کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں، وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم نے یہ "مقدس الفاظ" نہیں سنے کہ "ہم کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائيں گے۔"
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کر دیا اور اب وہ دوبارہ شروع کر کے اپنے مقاصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ "ہم ایران کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے امریکی پالیسی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے پر مبنی ہے۔"
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
امریکی صدر نے کانگریس میں یہ تقریر ایسے وقت کی ہے جب واشنگٹن میں سیاسی کشیدگی جاری، ٹرمپ کو گرتی ہوئي مقبولیت کا سامنا ہے جبکہ بہت ارکان کانگریس نے صدر تقریر کا بائيکاٹ بھی کیا ہے۔