• عالمی برادری، بیت المقدس کے مستقبل کے سلسلے میں ٹرمپ کی مہم جوئی کے خلاف

بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے اور امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کے امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے پر عالمی برادری میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

اسلامی ممالک ، یورپی ممالک ، اسلامی تعاون تنظیم، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اورعالمی کیتھولیک عیسائی رہنما پاپ تک نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے-

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیوگوٹرش کا کہنا ہے کہ قدس کے سلسلے میں امریکی حکومت کے فیصلے نے مشرق وسطی کو خطرے میں ڈال دیا ہے- تمام شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ کا یہ اقدام مشرق وسطی میں نام نہاد امن کے عمل کے تابوت میں آخری کیل ہے - یہ عمل انیس سو نوے کے عشرے میں شروع ہوا تھا تاکہ فلسطین میں دو ملکوں کی بنیاد ڈالی جائے- اس درمیان امریکہ کے تین صدور نے ڈیموکریٹ اور ریپبلکن پارٹیوں سے بظاہر ہی سہی اس عمل کی پابندی کرنے کا اعلان کیا تھا- اسی وجہ سے بل کلنٹن، جارج بش اور باراک اوباما نے ہر چھے مہینے میں ایک بار امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کئے جانے کے امریکی کانگریس کے بل پرعمل درآمد کو ملتوی کرتے رہے تاکہ نام نہاد مشرق وسطی امن مذاکرات کو کامیاب بنایا جاسکے-

ڈونالڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد صیہونیوں نے مشرق وسطی امن کےعمل کو درہم برہم کرنے کے لئے سنہری موقع سے فائدہ اٹھایا اور بین الاقوامی قوانین کو زیادہ سے زیادہ پامال کیا- ڈونالڈ ٹرمپ نے اسی دن سے جس دن ان کے یہودی داماد جرد کوشنر مشرق وسطی کے امور میں امریکی صدر کے خصوصی مشیر بنے یہ ظاہر کرنا شروع کردیا کہ وہ اسرائیل و فلسطین کے مسئلے میں اپنے اسلاف کی طرح دکھاوے کی حد تک بھی پابند نہیں ہیں- انھوں نے اپنے دورہ اسرائیل میں دیوار ندبہ کا دورہ کیا اور مقبوضہ زمینوں پر صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے بارے میں واشنگٹن کی تنقیدی پالیسیوں کو ترک کردیا-

اس وقت تمام انتباہات کے باوجود ٹرمپ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کو بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بنانا چاہتے ہیں وہ بھی ایسی حالت میں کہ یورپ میں تل ابیب کے سب سے قریبی اتحادیوں نے بھی اس فیصلے کے برے نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے لیکن ٹرمپ کے لئے کہ جو تمام سیاسی، سیکورٹی، اقتصادی اور سماجی میدانوں میں " پہلے امریکہ " کا نعرہ لگاتے ہیں اس طرح کی مخالفتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے-

امریکہ کے قوم پرست حکمراں ٹولے کا خیال ہے کہ یہ ملک دوسروں کی حمایت حاصل کئے بغیر بین الاقوامی نظم کو تبدیل اور دوسروں پر اپنے مطالبات و نظریات مسلط کرنے کی طاقت رکھتا ہے-

اس کے باوجود عالمی برادری کی جانب سے ماحولیات سے لے کر تجارت و مہاجرت تک ہر موضوع میں امریکہ کی من مانی کی بڑھتی ہوئی مخالفتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی موضوع میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی اس ملک کی طاقت ختم ہوتی جارہی ہے جس کی تازہ ترین مثال بیت المقدس کا مسئلہ ہے کہ جس کی عالمی برادری کی جانب سے کھل کر مذمت کی جارہی ہے- 

Dec ۰۷, ۲۰۱۷ ۰۹:۵۶ UTC
کمنٹس