• پاکستان کا رجحان امریکہ کے بجائے چین اور روس کی جانب

پاکستان کے وزیرخارجہ نے امریکی وزیر دفاع کے حالیہ دورہ اسلام کے بعد اپنے پہلے موقف میں اسلام آباد کی پالیسیوں کا رخ واشنگٹن کے بجائے بیجنگ اور ماسکو کی جانب مڑ جانے کی خبر دی ہے

پاکستان کے وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا رخ ، امریکہ کے بجائے چین کی جانب ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے ضمنی طور پر امریکی وزیردفاع جیمز میٹس کے ناکام دورہ پاکستان کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں اب پہلے جیسی گرمجوشی نہیں ہے-

 پاکستان کا رخ چین اور روس کی جانب ہونے کے سلسلے میں چند مسائل قابل غور ہیں پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکہ نے عملی طور پر یہ ثابت کردیا ہے کہ علاقے میں اس کی پسند اور انتخاب ہندوستان ہے اور اس نے پاکستان کی جگہ ہندوستان کو دے دی ہے - جبکہ دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکہ کے حملے اور اس میں پاکستان کے تعاون کے بعد امریکہ نے اس ملک کو امریکہ کا نان نیٹو اتحادی اعلان کردیا تھا-

دوسرے یہ کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکام اور مسائل کا ذمہ دار پاکستان کو سمجھتا ہے اور سن دوہزارچھے سے امریکہ کے فوجی اور سیاسی حکام نے پاکستانی فوج اور حکومت پر افغانستان میں تعاون نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر اپنے حملے شروع کئے کہ جو اسلام آباد اور واشنگٹن کےدرمیان کشیدگی کا باعث بنے-

امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں سردمہری آنے کے سلسلے میں تیسری اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے پاکستان کی جانب سے اسلام آباد کے سابھ بھی ویسا ہی ایٹمی معاہدہ کیے جانے کی درخواست مسترد کردی جیسا اس نے ہندوستان کے ساتھ کیا ہے جبکہ امریکہ پاکستان تعلقات میں سردمہری آنے کی چوتھی وجہ افغانستان میں ہندوستان کے نفوذ میں اضافے کے بارے میں پاکستانی حکام کا احتجاج ہے-  اسلام آباد افغانستان کو اپنی کالونی سمجھتا ہے اور افغانستان میں ہندوستان کی سیکورٹی و فوجی موجودگی کے خلاف ہے اور یہ وہ حساسیت ہے جسے امریکہ اور حکومت افغانستان نظرانداز کر رہی ہے-

امریکہ میں سیاسی امور کے ماہر ٹیڈ پو کہتے ہیں کہ اگر پاکستان امریکہ کا حقیقی اتحادی ہوتا تو دہشتگردوں کی حمایت جاری نہ رکھتا اور افغانستان میں واشنگٹن کے خلاف کام نہ کرتا بنا بریں اسلام آباد پر امریکہ کو بھروسہ نہیں ہے- اس بنا پر پاکستان، چین اور پھر روس کے ساتھ تعاون کی روش اختیار کر کے امریکہ پر یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ اب اسلام آباد کا انتخاب امریکہ نہیں ہے بلکہ پاکستان کے لئے تعاون کے دیگر آپشن بھی موجود ہیں-

پاکستان اور چین کے درمیان بڑے اقتصادی معاہدوں نے اس ملک کے اندر چین کی سرمایہ کاری اور روس کی فوجی حمایت کی امید پیدا کردی ہے- یہ ایسے عالم میں ہے کہ پاکستانی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے اقصتادی مسائل کے حل کے لئے اب تک کوئی اقدام نہیں کیا ہے- اس کے باوجود امریکہ میں بعض ماہرین کا خیال ہے کہ واشنگٹن کو اب بھی افغانستان میں پاکستان کی مدد کی ضرورت ہے اور اسے چین کے مفاد میں اسلام آباد کی حمایت بند نہیں کرنا چاہئے-

امریکی سینیٹر الیزابتھ وارن کہتی ہیں کہ افغانستان میں امن مذاکرات شروع کرانے میں مدد کے لئے پاکستان کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے کیونکہ فوجی اقدام افغان حکومت کے مخالفین کو مذاکرات پرمجبور نہیں کرسکتا-

بہرحال افغانستان سمیت دنیا کے مختلف علاقوں میں امریکہ کے جرائم اور امریکہ کے ساتھ تعاون کی پاکستان کے عوام میں بڑے پیمانے پرمخالفتوں کے پیش نظر اسلام آباد حکومت بھی امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک طرف اپنے تعلقات چین اور روس کے ساتھ بڑھانا چاہتی ہے تو دوسری جانب پاکستانی رائے عامہ کی حمایت بھی حاصل کرنا چاہتی ہے -

Dec ۰۷, ۲۰۱۷ ۰۹:۵۶ UTC
کمنٹس