Dec ۱۴, ۲۰۱۹ ۱۶:۰۸ Asia/Tehran
  • عراق اور لبنان کی تبدیلیوں میں امریکی کردار پر، حسن نصراللہ کا تجزیہ

حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے گذشتہ رات اپنی ایک تقریر میں، لبنان اور مغربی ایشیا میں رونما ہونے والی تازہ ترین تبدیلیوں پر اپنا نقطۂ نگاہ بیان کیا

جس وقت سے لبنان میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا ہے، حزب اللہ اور اس کے سیکریٹری جنرل کا پائیدار موقف، عوامی مطالبات کی حمایت اور وزیر اعظم سعد الحریری کے استعفے کی مخالفت میں رہا ہے - ایسے میں جبکہ وزیر اعظم  سعد الحریری کو انپے عہدے سے استعفے دیئے ہوئے پینتالیس دن گذر گئے ہیں، سید حسن نصراللہ نے ایک بار پھر حکومت کا استعفی غلط ہونے پر زور دیا ہے، اور کہا کہ یہ استعفی صرف وقت کا ضیاع تھا کہ جو اداروں اور دفتروں میں تعطیل کا باعث بنا - در ایں اثنا سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ حزب اللہ کا موجودہ موقف، لبنان میں ایک جامع حکومت کی تشکیل کی حمایت ہے- 

سید حسن نصراللہ کی تقریر میں دوسرا نکتہ ، لبنان کی نئی کابینہ کی تشکیل کے عمل میں امریکی کردار ہے- سید حسن نصراللہ کے نقطۂ نگاہ سے امریکی حکام نے اس مرحلے میں اپنی کوششیں تیز کردی ہیں کیوں کہ ایک جانب تو ان کی کوشش ہے کہ لبنان میں واشنگٹن کے مفادات سے ہم آہنگ کابینہ تشکیل پائے، تو دوسری جانب وہ  لبنان کے لئے امریکی مدد و حمایت کے مدعی ہیں- جبکہ لبنان کی مدد  سے امریکہ کا مقصد، سیاسی نظام سے حزب اللہ لبنان کو خارج کردینا ہے- درحقیقت امریکیوں نے الحریری حکومت کے استعفے کا خیر مقدم کیا ہے اور اس وقت وہ اپنا یہ غلط پیغام لبنانی عوام تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ اگر حزب اللہ کو اقتدار کے ڈھانچے سے حذف کردیا جائے تو ان کے حالات بہتر ہوجائیں گے- 

سید حسن نصراللہ کی تقریر کا تیسرا نکتہ ، لبنان اور عراق میں احتجاجات کی لہروں پر سوار ہوکر اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہے- اسی سلسلے میں امریکیوں نے دو اہم ٹیکٹیک اپنائی ہے

اول یہ کہ ان کی کوشش ہے کہ حکومت مخالفین اور سیاسی عناصر کی ناراضگیوں سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ ظاہر کریں کہ عراق اور لبنان میں ہونے والے مظاہرے حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف نہیں ہیں اور وہ معاشی صورتحال کے خلاف احتجاج نہیں کر رہے ہیں - سید حسن نصراللہ نے اس سلسلے میں کہا کہ لبنان کے مظاہرے ایران مخالف نہیں ہیں اور اس سلسلے میں کوئی علامت ایسی نہیں ملی ہے بلکہ امریکیوں کے دعوے کے برخلاف، لبنان کے عوام کا مطالبہ، اقتصادی اور معاشی حالات کو بہتر بنانے کے بارے میں ہی ہے

دوسرے یہ کہ امریکیوں کی کوشش ہے کہ لبنا اور عراق کے احتجاج اور مظاہروں سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کی علاقائی پالیسیاں تبدیل کرنے کے مقصد سے اس پر دباؤ بڑھائیں- امریکیوں کا یہی وہ اصلی ہدف و مقصد ہے جو لبنان اور عراق کے مظاہروں کے جاری رہنے کی ایک اصلی وجہ شمار ہوتا ہے- 

سید حسن نصراللہ کی تقریر میں چوتھا نکتہ، علاقائی قوت و اقتدار کو سب پر ظاہر کرنا ہے- سید حسن نصراللہ کی تقریر کے اس پہلو کے دو حصے تھے۔ اول یہ کہ حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ یہ جو تجزیہ کیا جا رہا ہے حزب اللہ صیہونیوں کے مفادات کے لئے خطرہ ہے تو یہ بات صحیح ہے اور ہم یہ بات فخر سے کہہ رہے ہیں کہ ہم صیہونیوں کے لئے خطرہ ہیں- 

دوسرے یہ کہ حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران پر اگر حملہ کیا گیا تو اسے اپنے دفاع کے لئے علاقائی اتحادیوں کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ اکیلا ہی حملوں کا جواب دینے کے لئے کافی ہوگا -

اور آخری نکتہ یہ کہ سید حسن نصراللہ کی تقریر کے نکات سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکی اور اتحادیوں نے لبنان اور عراق میں بدامنی کے لئے کمر کس لی ہے اور وہ ان ملکوں کے عوام کے خلاف زیادہ سے تشدد کے خواہاں ہیں اور اس تشدد میں اضافے کے لئے وہ اپنے داخلی عناصر کو بروئے کار لا رہے ہیں-      

    

ٹیگس