ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے تحت عالمی معائنہ کاری کا کوئی بھی عمل ایران کے فوجی رازوں تک رسائی کا بہانہ نہیں بن سکتا۔

روس کے شہر سوچی پہنچنے پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ جامع ایٹمی معاہدے اور ایڈیشنل پروٹوکول کے تحت صرف ایسی تنصیبات کاہی  معائنہ کیا جاسکتا ہے جہاں ایٹمی سرگرمیوں کا امکان پایا جاتا ہو۔ایران کے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی نے بھی بارہا اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران غیر اعلانیہ ایٹمی سرگرمیاں نہ ہونے کے اپنے وعدے پر پوری طرح قائم ہے۔انہوں نے جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے ایران اور روس کے درمیان پائی جانے والی ہم آہنگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک عالمی اداروں اور فورموں پر ایک دوسرے کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے دورہ روس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور روس کو مشترکہ علاقائی چیلنجوں کا سامنا ہے اور دونوں ملکوں نے شام کی مدد کرکے دہشت گردوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور شام کی صورتحال بہتری کی طرف جارہی ہے۔وزیر خارجہ محمد جواد ظریف بدھ کے روز روس کے ایک روزہ دورے پر سوچی پہنچے ہیں۔

Sep ۱۳, ۲۰۱۷ ۱۴:۵۳ UTC
کمنٹس