• یمن پر تازہ وحشیانہ سعودی جارحیت، تیس سے زائد عام شہری شہید

یمن پر تازہ وحشیانہ سعودی جارحیت میں کم سے کم تیس سے زائد عام شہری شہید ہو گئے۔

یمن سے موصولہ رپوٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سعودی جنگی طیاروں نے سنیچر کو بھی یمن کے مختلف علاقوں پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھا۔

اس رپورٹ کے مطابق شہر زیحان کے ایک رہائشی علاقے پر سعودی جنگی طیاروں کی بمباری میں کم سے کم تیس عام شہری شہید ہو گئے۔

شہید ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

اس سے پہلے سنیچر کی صبح سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے جنگی طیاروں نے صوبہ تعز کے مختلف علاقوں پر نو سے زائد بار بمباری کی۔

سعودی اتحاد کے ان حملوں میں بہت سے عام شہری شہید اور زخمی ہو ئے ہیں۔

سعودی اتحاد کے طیاروں نے سنیچر کو صوبہ صنعا کے جنوب میں بلاد روس ضلع کے مختلف علاقوں پر بمباری کی ہے۔

سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے اسی طرح صوبہ صعدہ کے ساقین ضلع میں الخمیس بازار اور اس کے اطراف میں واقع کھیتوں پر دس مرتبہ بمباری کی جبکہ الجوف میں واقع الغیل نامی علاقے کو بھی تین بار بمباری کا نشانہ بنایا۔

ان حملوں میں بھی متعدد عام شہریوں کے شہید اور زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

دریں اثنا امریکا کے ایک ڈرون طیارے نے بھی صوبہ تعز کے ضباب نامی علاقے میں ایک اسکول پر بمباری کی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی حکومت کے جنگی طیاروں نے جمعے کی شام یمن کے دارالحکومت صنعا کے ایک کالج اور ایک اسپتال پر بمباری کر کے ان دونوں مراکز کو تباہ کر دیا تھا۔

دوسری جانب یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے آل سعود کے ان حملوں کے جواب میں جیزان اور نجران میں سعودی فوج کے میزائل گوداموں پر کئی میزائل فائر کئے۔

دریں اثنا نجران کے العش اڈے میں ایک سعودی فوجی یمنی فوج کی فائرنگ میں ہلاک ہو گیا جبکہ یمنی فوج کے توپ خانے نے بھی اس اڈے پر گولہ باری کی۔

ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمنی افواج کے حملے میں امریکا کی بدنام زمانہ بلیک واٹر سیکورٹی کمپنی کا رکن ایک برطانوی فوجی افسر بھی مارا گیا ہے۔

یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے جمعے کی شام سعودی حکومت کی المحروق فوجی چھاؤنی پر حملہ کر کے کم سے کم چھے سعودی فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

Jan ۱۶, ۲۰۱۶ ۱۲:۴۴ UTC
کمنٹس