Feb ۱۲, ۲۰۲۰ ۱۷:۲۴ Asia/Tehran
  • شامی فوج کا ترکی کو سخت انتباہ

شامی فوج کی مشترکہ کمانڈ نے اپنے ملک پر ترک فوج کےحملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔

دمشق میں شامی فوج کی مشترکہ کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی شامی سرزمین پر فوجی مداخلت کے ذریعے صوبہ ادلب اور حلب میں دہشت گردوں کے خاتمے میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔
 
شامی فوج کی مشترکہ کمانڈ کے بیان میں ان مقامات کی نشاندھی بھی کی گئی ہے جہاں ترک فوجی تعینات ہیں اور وہاں سے رہائشی علاقوں پر وسیع حملے کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترک فوج کے یہ حملے شامی فوج کو صوبہ ادلب اور حلب کو دہشت گردوں سے پاک کرنے سے باز نہیں رکھ سکتے۔
 
قابل ذکر ہے کہ صوبہ ادلب اور حلب کے بعض علاقوں میں دہشت گردوں کے آخری ٹھکانے واقع ہیں اور شامی فوج نے حال ہی میں ان علاقوں کی جانب پیشقدمی کا آغاز کیا ہے۔ترک فوج نے پچھلے چند روز کے دوران صوبہ ادلب اور حلب میں شام فوج کے ٹھکانوں اور بنیادی تنصیبات پر بمباری کی ہے جس کا مقصد دہشت گردوں کو حتمی شکست سے بچانا ہے۔
ترک فوج نے پچھلے تین سال کے دوران شام کے خلاف جارحیت کا بارہا ارتکاب کیا ہے اور شمالی شام کے بعض علاقوں پر قبضہ بھی کر رکھا ہے۔
دوسری جانب مغرب ممالک اور امریکہ کے قائم کردہ جنگی اتحاد نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے شام پر ترک فوج کے حملوں کی حمایت کرتے ہوئے صوبہ ادلب میں دہشت گردوں کے خلاف شامی فوج کے آپریشن کی مذمت کی ہے۔
 
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے شام میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے جرائم کی جانب کوئی اشارہ کیے بغیر دعوی کیا کہ شامی فوج ادلب میں عام شہریوں پر حملے کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم شام کی حکومت اور اس کی حمایت کرنے والے روس سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عالمی قوانین کا احترام کرے اور بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نےادلب میں شامی فوج کے آپریشن کے خلاف یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب ترک فوج نے شمالی شام کے چار ہزار کلومیٹر رقبے پر قبضہ کر رکھا ہے۔
دمشق حکومت نے ترکی کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اپنی سرزمین سے ترک فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔
درایں اثنا اطلاعات ہیں کہ شامی فوج نے شمالی صوبے حلب کے مزید کئی علاقوں کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرالیا ہے۔
خبروں میں کہا گیا ہے کہ شامی فوج نے حلب کے مغربی علاقے خان العسل اور جنوب مغربی واقع کفرنوران نامی دیہات کو دہشت گردوں سے پاک کردیا ہے۔
شامی فوج نے پچھلے چند روز کے دوران حلب کی جانب وسیع علاقوں میں پیش قدمی کی ہے اور سات سال کے بعد حلب کو دمشق سے ملانے والی اہم شاہراہ کو آزاد کرانے کے بعد اس پر ٹریفک بحال کردیا ہے۔ 

ٹیگس

کمنٹس