• ٹرمپ کی پالیسیاں مسترد، ڈیموکریٹس کامیاب

امریکا میں مڈٹرم الیکشن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت ری پبلکن پارٹی کو بڑا جھٹکا لگا ہے ۔

امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے مطابق امریکی عوام کی اکثریت نے صدر ٹرمپ کی پالیسیاں رد کرتے ہوئے ڈیموکریٹ پارٹی کو ووٹ دیئے جس نے ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی نے ایوان نمائندگان میں ری پبلکنز سے 26 نشستیں چھین لی ہیں اور ری پبلکنز کا آٹھ سالہ راج ختم کرکے اپنی حکمرانی قائم کرلی ہے۔

ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کو 213 اور ری پبلکن کو 196 نشستوں پر برتری حاصل ہو گئی ہے۔ دوسری طرف امریکی سینیٹ میں ری پبلکنز کو جزوی اکثریت حاصل ہے جہاں ری پبلکن پارٹی کی 51 جبکہ ڈیموکریٹس کی 46 سیٹیں ہیں۔ ریاستوں کے 36 گورنرز کے انتخابات میں ری پبلکنز کو 25 اور ڈیموکریٹس کے 21 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ گورنرز کے الیکشن میں بھی ری پبلکنز کی 6 نشستیں ڈیموکریٹس کے پاس چلی گئی ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن میں پارٹی کی خراب کارکردگی کے باوجود ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ آج رات شاندار فتح حاصل ہوئی، آپ سب کا شکریہ جبکہ حقیقت اس کے باالکل بر عکس ہے۔

ڈیموکریٹس رہنما نینسی پلوسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی آواز سنی گئی، آپ کے ووٹ سے تبدیلی آئی، کل ایک نیا امریکا ہوگا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ہر فیصلے پر جواب دہ ہوں گے۔

امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج پر وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سی این این کے رپورٹر پر چڑھ دوڑے ۔

امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت سے متعلق سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ آپے سے باہر ہو گئے، رپورٹر کو بُرا بھلا کہا اور عملے کو رپورٹر کا مائیک چھین لینے کا حکم دے دیا۔

روسی مداخلت سے متعلق سوال پر خفا ٹرمپ نے صحافی کو چُپ ہونے کو کہا، بولے وہ کسی روسی مداخلت کو نہیں مانتے، یہ سب افواہ ہے، بیٹھ جاؤ، بہت ہوگیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این این کے رپورٹر کو مزید کہا کہ امریکی چینل کے لیے شرمناک ہے کہ تم جیسے رپورٹر رکھے ہوئے ہیں، تم غلط خبریں دیتے ہو، چینل چلاتا ہے، تم لوگوں کے دشمن ہو۔

انہوں نے ایک اور صحافی کو بھی ’نسل پرستانہ سوال نہ کرو‘ کہہ کر چُپ کرا دیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق ووٹ کے حق سے متعلق 10 ہزار شکایات موصول ہوئی ہیں جو کسی بھی مڈٹرم الیکشن میں شکایات کی سب سے بڑی شرح ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے مینی سوٹا، نیو میکسیکو، نیویارک اور پنسلوانیا میں میدان مار لیا۔  تین عشروں میں پہلی بار امریکی ریاست فلوریڈا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے حق میں رجحان دیکھا گیا۔

ٹیگس

Nov ۰۸, ۲۰۱۸ ۰۸:۱۹ Asia/Tehran
کمنٹس