Aug ۲۵, ۲۰۱۹ ۰۹:۳۶ Asia/Tehran
  • فرانس میں جی سیون چوٹی کانفرنس کے خلاف احتجاجی مظاہرے

فرانس کے شہر بیارٹز میں ہونے والی جی سیون رہنما کانفرنس میں شرکت کے لیے دنیا کی اہم طاقتوں کے سربراہان پہنچ رہے ہیں جبکہ ہزاروں مخالفین نے پہلے ہی احتجاجی مظاہروں کا آغازکردیاہے۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جی سیون مخالف مختلف تنظیموں کے کارکن اور رہنما رواں ہفتے سے فرانس کے جنوب مغربی علاقے میں جمع ہونا شروع ہوئے ہیں، تاہم مظاہرے کے منتظمین کا اصرار ہے کہ وہ پرامن رہیں گے۔

جی سیون کانفرنس بیارٹز میں ہورہی ہے، جہاں سے 30 کلومیٹر دور ریگستانی شہر میں ہفتے کو ہزاروں افراد جمع ہوئے اور پرامن مظاہرہ کیا۔

پولیس کے مطابق مظاہرے میں 9 ہزار افراد شریک تھے لیکن منتظمین کا کہنا تھا کہ کم ازکم 15 ہزار افراد جمع ہوئے تھے۔

ادھر مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جہاں ایک بینر پر ایمیزون کے جنگلات کو بچانے کی اپیل کرتے ہوئے لکھا ہوا تھا کہ ریاستوں کے سربراہان اب کردار ادا کیجیے، ایمیزون جل رہا ہے۔

احتجاج میں شریک افراد دنیا کے سب سے بڑے جنگل میں لگنے والی آگ کا حوالہ دیتے ہوئے جنگلی حیات کو بچانے کے لیے نعرے لگا رہے تھے۔

دوسری جانب پیرس میں بھی اس حوالے سے احتجاج کیا گیا، جہاں پلے کارڈز میں رواں برس آگ سے جل کر خاکستر ہوئے عیسائیوں کے تاریخی چرچ کی جانب اشارہ کرکے تحریر کیا گیا تھا کہ اگر موسم ایک کیتھڈرل تھا تو ہم اس کو پہلے بھی محفوظ بنا چکے ہیں’۔

علاوہ ازیں جی سیون مخالف مظاہرین نے فرانس اور اسپین کو ملانے والے پل کی طرف مارچ کیا، اس دوران وہ نعرے بلند کررہے تھے اور ڈرمز بھی بجارہے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس نے بیارٹز سے 25 کلومیٹر دور جنوب میں ایک گاؤں سے 17 افراد کو حراست میں لے لیا، اس دوران 4 پولیس اہلکار بھی معمولی زخمی ہوئے۔

فرانس کی حکومت نے جی سیون کانفرنس اور مظاہروں کے پیش نظر 13 ہزار پولیس اہلکاروں کو شہر میں تعینات کردیا ہے تاکہ پرامن انداز میں یہ کانفرنس منعقد ہوسکے جبکہ مظاہرین کا موقف ہے کہ وہ پرامن احتجاج کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ بیارٹز فرانس کا سیاحتی شہر ہے، جہاں موسم سرما میں سیاحوں کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے لیکن اب 3 روز کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر عالمی طاقتوں کے رہنما کانفرنس میں شرکت کے سلسلے میں یہاں قیام کریں گے۔

ٹیگس

کمنٹس