Mar ۳۰, ۲۰۲۰ ۱۹:۲۱ Asia/Tehran
  • کورونا کا مقابلہ کرنے کے لئے وسائل کم ہیں : ٹرمپ کا اعتراف

امریکی صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ کورونا کی روک تھام کے لئے درکار وسائل کی کمی کے سبب، امریکہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ڈیزاسٹر منیجمنٹ کمیٹی کے ارکان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ کورونا کے مریضوں کے علاج میں بعض طبی وسائل اور وینٹی لیٹر مشینوں کی کمی ہے اور اسپتالوں میں موجود مریضوں کی دیکھ بھال میں مشکلات پیش آرہی ہیں -

ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا میں ایک سے دو لاکھ افراد تک کورونا سے ہلاک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ساتھ ہی سماجی فاصلے کے قانون پر عمل درآمد کی مدت آئندہ تیس اپریل تک بڑھا دی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ڈیموکریٹک پارٹی اور بعض نشریاتی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی سیاسی وجوہات کی بنا پر کورونا کے خلاف جنگ میں حکومتی کارکردگی کوتسلیم نہیں کر رہی ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ سی ان ان بھی اس سلسلے میں صحیح خبریں نہیں دے رہا ہے-

ٹرمپ نے یہ بیان ایک ایسے وقت دیا ہے جب امریکا میں کورونا سے متاثرین افراد کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب پہنچ رہی ہے اور مرنے والوں کی تعداد بھی دوہزار سے تجاوز کر گئی ہے-

اس درمیان ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کورونا کے خلاف حکومتی اقدامات پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت حال یہ ہے کہ امریکا میں کورونا ٹیسٹ پوری طرح سے انجام نہیں پا رہے ہیں اور کورونا سے متاثرہ علاقوں کو درکار طبی سہولتوں کی فراہمی میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔

اُدھر امریکہ میں وبائی امراض کے قومی مرکز کے سربراہ نے بھی سی ان ان سے گفتگو کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ کورونا امریکہ میں ایک سے دو لاکھ افراد کی جان لے سکتا ہے۔

امریکا کے آئندہ صدارتی انتخابات کے امیدوار جوبایڈن نے بھی اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ کورونا سے نمٹنے میں ٹرمپ نے سستی کا مظاہرہ کیا ہے اور انہیں قوم کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا کہا کہ صحیح راستے پر چلنے میں ناکامی اور کورونا سے نمٹنے میں جس سرعت عمل سے کام لیا جانا چاہئے تھا اس کا فقدان ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کو جاری نہیں رکھا جاسکتا -

امریکا کے ایک اور صدارتی امیدوار برنی سینڈرز نے بھی اپنے ٹویٹر پیج پر کورونا سے متاثرین کے علاج و معالجے کی صورتحال اور اس کے علاج کے لئے سنگین اخراجات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لوگ دم توڑ رہے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ بیمار ہیں، لیکن پھر بھی اسپتال نہیں جا رہے ہیں کیونکہ وہ علاج کے بھاری اخراجات برداشت کرنے پر قادر نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ عالمی سطح پر ایک شرمناک مسئلہ ہے انہوں نے کہا کہ شہریوں کا علاج و معالجہ ان کے بنیادی حقوق میں شمار ہونا چاہئے-

اس وقت امریکا کی پچاس ریاستیں کورونا سے متاثر ہیں لیکن ریاست نیویارک کی صورتحال سب سے زیادہ خطرناک ہے - ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کورونا وائرس نیویارک کی گھنی آبادیوں میں پھیل گیا تو اس کی صورتحال چین کے شہر ووھان اور اٹلی کے شہر لومباردی سے بھی بدتر ہوجائے گی۔

امریکی حکومت نے دیگر ممالک کی بہ نسبت بہت دیر سے کورونا ٹیسٹنگ کا آغاز کیا ہے اور اس وقت کورونا بیماروں میں اچانک اضافے کے بعد امریکہ کے طبی مراکز کورونا ٹیسٹ کیٹس کی قلت سے روبرو ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ منگل کو یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ امریکہ دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے اصل مرکز میں تبدیل ہو سکتا ہے۔اس وقت امریکہ کی تمام پچاس ریاستوں میں کورونا وائرس سرایت کر چکا ہے اور اس وبا کا شکار ہونے والوں کی تعداد کے لحاظ سے امریکہ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔

واضح رہے کہ کورونا کے تعلق سے ٹرمپ انتظامیہ کے رویہ نے ملک بھر میں خاصی تشویش پیدا کر دی ہے جس کے سبب ملک کی مختلف ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ جبکہ ملک میں معاشی اور سماجی سیکورٹی کے مسائل بھی تیزی کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں ۔

 

ٹیگس

کمنٹس