Sep ۲۸, ۲۰۱۵ ۱۷:۵۴ Asia/Tehran
  • بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کے بگڑتے ہوئے حالات پر تشویش
    بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کے بگڑتے ہوئے حالات پر تشویش

فلسطیینی قیدیوں اور رہا ہونے والے افراد کے امور کی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال ایک دشوار مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

فلسطیینی قیدیوں اور رہا ہونے والے افراد کے امور کی کمیٹی کے سربراہ عیسی قراقع نے کہا ہے کہ بھوک ہڑتال کرنے والے تمام فلسطینی قیدیوں کو کہ جن کی تعداد سترہ ہے، قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور صیہونی حکام کی جانب سے ان کو اسپتال منتقل کرنے کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے ان کی صورت حال انتہائی تشویش ناک ہو گئی ہے۔
عیسی قراقع نے کہا ہے کہ بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدی کھڑے ہونے اور حرکت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
انھوں نے فلسطینی قیدیوں کی جان بچانے اور ان کی غیرقانونی نظربندی کو روکنے کے لیے مختلف سطح پر صیہونی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔
کئی فلسطینیوں نے مقدمہ چلائے بغیر غیرقانونی نظربندیوں کے خلاف بطور احتجاج تقریبا چالیس روز سے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔
عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے بھی بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت کی ہے۔ اس تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صیہونی حکومت کو بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کی مکمل صحت و سلامتی کے بارے میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔
اس بیان میں صیہونی حکومت کی جانب سے بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کو اسپتال منتقل کرنے کی اجازت نہ دینے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس قسم کے دہشت گردانہ طریقے، بھوک ہڑتال ختم کرانے کے لیے فلسطینی قیدیوں پر دباؤ ڈالنے کی صیہونی حکومت کی ناکام کوشش ہیں۔
عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے اسی طرح بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی قیدیوں کی جان بچانے اور غیر قانونی نظربندیوں کی مذمت کرنے کے لیے اقدام کریں۔
یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب فلسطیینی قیدیوں اور رہا ہونے والے افراد کے امور کی کمیٹی کے سربراہ عیسی قراقع نے اس سے قبل کہا تھا کہ صیہونی حکومت بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کی جسمانی حالت کا جائزہ لینے کے لیے انھیں اسپتال منتقل کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے جبکہ فلسطینی قیدیوں کے مرکز نے فلسطینی قیدیوں پر تشدد جاری رکھنے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
فلسطینی قیدیوں کے مرکز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صیہونیوں نے فلسطینیوں کے خلاف بےرحمانہ اور غیرانسانی اقدامات کا سلسلہ تیز کر دیا ہے اور بہت سے فلسطینی قیدی بین الاقوامی کنونشنوں میں درج حقوق سے محروم ہیں۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کے باوجود کہ تقریبا ایک ہزار فلسطینی قیدی کینسر سمیت جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہیں، صیہونی حکومت کے جیل حکام انھیں اسپتال جانے اور علاج معالجے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔
اس بیان کے مطابق صیہونی حکومت نے دو سو سے زائد فلسطینی بچوں کو بھی گرفتار کیا ہے اور ان پر شدید تشدد کر رہی ہے جس کی وجہ سے بہت سے بچے مختلف جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے ہیں اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے۔
اس بیان میں اسی طرح اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کو گھنٹوں کھڑے رہنے پر مجبور کرنا، انھیں مذہبی فرائض کی انجام دہی سے روکنا، قیدیوں کے جسموں کو سیگرٹوں سے جلانا، انھیں زدوکوب کرنا، قیدیوں کے جسموں پر انتہائی ٹھنڈا اور گرم پانی ڈالنا اور جیل کے اندر بدبودار کوڑا کرکٹ رکھنا ایسے اقدامات ہیں جو غاصب اسرائیل کے جیل حکام فلسطینی قیدیوں پر روا رکھتے ہیں۔
فلسطینی قیدیوں کے مرکز کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تشدد آمیز وحشیانہ طریقے استعمال کرنا اور فلسطینی قیدیوں کو تنگ و تاریک کال کوٹھری میں قید تنہائی میں رکھنا بہت سے قیدیوں کے معذور ہونے کا باعث بنا ہے اور کئی فلسطینی قیدیوں کے صیہونی قید خانوں میں شہید ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ٹیگس