Oct ۱۶, ۲۰۱۵ ۱۳:۰۹ Asia/Tehran
  • وزارت خارجہ کی جانب سے سعودی عرب کے بے بنیاد دعووں کا جواب
    وزارت خارجہ کی جانب سے سعودی عرب کے بے بنیاد دعووں کا جواب

سعودی عرب کے حکام نے یمن میں جو مظالم ڈھائے ہیں ان کی وجہ سے ان کو متعدد مسائل درپیش ہیں۔


رواں سال حج کے دوران بھی ان کی بدانتظامی کی وجہ سے منی کا ہولناک سانحہ پیش آیا اور ہزاروں حجاج کرام اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جس کی وجہ سے سعودی عرب کے حکام پر وسیع پیمانے پر تنقیدکی جا رہی ہے۔ لیکن یہ حکام اس خیال باطل میں مبتلا ہیں کہ وہ حقائق کو نظر انداز کر کے اس صورتحال سے نجات حاصل کر سکتے ہیں جو خود ان کی اپنی پیدا کردہ ہے۔


سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے یمن کے امور میں ایران کی مداخلت کا اپنا بے بنیاد دعوی ایک بار پھر دہراتے ہوئے ایران کو بحران یمن کا ذمےدار ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے بدھ کے دن سعودی عرب کے وزیر خارجہ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا اور سعودی حکام سے کہا کہ وہ بیانات دیتے وقت حقائق کو مد نظر رکھا کریں۔


یمن کے بارے میں سعودی حکام کی پالیسیاں اس قدر ذلت آمیز ہیں کہ بعض خبری ذرائع نے صیہونی اخبار معاریف کے حوالے سے جو رپورٹیں دی ہیں ان سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس ملک نے یمن پر حملے کے لئے اسرائیل سے مدد حاصل کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یمن کے عوام کو کچلنے کے سلسلے میں اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب کی حمایت کیا جانا خطے میں امریکہ اور صیہونیزم کی پراکسی وار کا حصہ ہے اور اس پراکسی وار میں سعودی عرب کی دولت خرچ کی جا رہی ہے۔


سعودی عرب کے حکام نے گزشتہ ہفتے جدید قسم کے تین سو بیس پیٹریاٹ میزائلوں کی خریداری کے لئے امریکی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے۔ امریکی وزارت جنگ نے بدھ کے دن کہا کہ امریکی حکومت نے سعودی عرب کو نو عدد بلیک ہاک (Black Hawk) ہیلی کاپٹر فروخت کرنے سے اتفاق کیا ہے جن کی مالیت تقریبا چار سو پچانوے ملین ڈالر ہے۔ سعودی عرب نے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس سے ہتھیار خرید کر یمن میں خواتین اور بچوں کا قتل عام کیا ہے۔


فارن پالیسی ویب سائٹ نے حال ہی میں ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ فارن پالیسی کے ہاتھ ایسی خفیہ دستاویزات لگی ہیں جن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ اقوام متحدہ میں اس بات کے لئے سفارتی کوششیں شروع کر دی ہیں کہ اقوام متحدہ یا کوئی بین الاقوامی ادارہ یمن کے نہتے شہریوں پر ان کے فضائی حملوں کی نگرانی نہ کر سکے۔ اقوام متحدہ میں بحران سے متعلق ہیومن رائٹس واچ کے دفتر کے سربراہ فلپ بلوپین نے بھی اس بارے میں کہا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کے اتحاد کو وسیع پیمانے پر فوجی مدد فراہم کرتا ہے لیکن وہ یمن میں مظالم کی تحقیقات کے لئے اقوام متحدہ کی کمیٹی بھیجے جانے کے سلسلے میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے۔


سعودی عرب نے یمن کے مفرور سابق صدر منصور ہادی کو اقتدار میں واپس لانے کے لئے مارچ کے مہینے سے یمن میں فوجی مداخلت شروع کر رکھی ہے۔ اقوام متحدہ میں آفس فار دی کوارڈی نیشن آف ہیومنیٹیرین افیئرز (Office for the Coordination of Humanitarian Affairs) نے کہا ہے کہ یمن پر حملوں میں اب تک پانچ ہزار سے زیادہ افراد شہید اور پچیس ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کو پیش کی جانے والی رپورٹوں کے مطابق چھبیس مارچ سے اگست کے مہینے تک یمن میں چار سو سے زیادہ بچے شہید ہوئے۔ سعودی عرب کے حکام اپنے ان کالے کرتوتوں کے باوجود ایران پر یمن کے داخلی امور میں مداخلت کرنے کا الزام لگاتے ہیں در اصل وہ ان الزامات کے ذریعے یمن میں وسیع پیمانے پر کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی اقوام متحدہ کی آزادانہ تحقیقات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔


جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے کہا ہے کہ جس ملک نے یمن کی خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں عام شہریوں کا خون بہایا ہے وہ کسی دوسرے ملک پر مداخلت کا الزام لگانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

ٹیگس