یمنی عوام کے خلاف سعودی عرب کے جارحانہ حملے
سعودی اتحاد کے فوجیوں نے یمن میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس ملک کے مختلف علاقوں پر شدید حملے کئے ہیں۔
شمالی یمن کے صوبے الجوف کے شہر المتون کے مختلف رہائشی علاقوں پر سعودی اتحاد کے اتوار کے روز کے حملوں میں کم از کم تین بچے شہید اور تین دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ سعودی اتحاد کے فوجیوں نے صوبے صنعا میں واقع شہر نہم کو بھی کئی بار اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا۔
دریں اثنا سعودی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے جنوبی یمن کے صوبے تعز میں الشقب کے علاقے پر دو بار حملہ کیا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ شہر تعز کے بعض علاقوں میں سعودی اتحاد کی پیش قدمی کی کوشش کے دوران اس اتحاد کے کئی فوجی ہلاک و زخمی ہو گئے اور ان کی کئی گاڑیوں کو تباہ کر دیا گیا۔ سعودی لڑاکا طیاروں نے چند گھنٹوں قبل یمن کے مختلف صوبوں منجملہ الحدیدہ، صعدہ اور مآرب پر بھی بمباری کی۔
یہ حملے ایسی حالت میں کئے گئے ہیں کہ کویت مذاکرات میں شریک یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کی کمیٹی کے ایک رکن حمزہ الحوثی نے کویت سے صنعا واپسی پر ایک پریس کانفرنس میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں یمن پر سعودی حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عیدالفطر یا اس کے بعد یمن پر سعودی حملے مزید تیز ہو سکتے ہیں۔ حمزہ الحوثی نے یمن کے عوام، فوج اور عوامی رضاکاروں کی استقامت کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام اور فوج کی پائمردی کی برکت سے یمنی قوم کے نمائندے اپنے ملک کے اہم مسائل کے بارے میں مذاکرات کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
انھوں نے کویت میں یمنی فریقوں کےمذاکرات کے بارے میں تاکید کے ساتھ کہا کہ یمن کے قومی وفد پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس بات کے پیش نظر کہ وہ یمنی عوام کے مسائل سے آگاہ ہے، اس نے منصفانہ راہ حل مدنظر رکھنے کی کوشش کی ہے۔
یمن کے قومی مذاکراتی وفد کے سربراہ عارف الزوکا نے بھی یمنی عوام کی پائمردی کو قومی وفد کی مزاحمت کی تقویت کا باعث قرار دیا اور کہا کہ مذاکرات کے عمل میں شریک تمام فریقوں کو چاہئے کہ مذاکرات کے عمل کو مکمل کرنے کے لئے پندرہ جولائی تک کویت واپس پہنچ جائیں اور اس عرصے کے دوران جنگ بندی بھی جاری رہنی چاہئے تاکہ امن و استحکام کے قیام کے زیر سایہ بعض اقتصادی اقدامات عمل میں لائے جا سکیں اور یمنی عوام کی راہ سے اقتصادی رکاوٹیں دور کی جاسکیں۔
ادھر یمن کی نیشنل کانگریس پارٹی کے ایک رہنما عادل الشجاع نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی، یمن میں جاری بحران کے حل کے لئے اقوام متحدہ کے نقشہ راہ سے اتفاق رکھتی ہے اور کویت میں یمن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے ساتھ ہی اس پر دستخط کر دیئے جائیں گے۔ انھوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ نقشہ راہ میں یمن میں قومی وفاقی حکومت اور فوجی و سیکورٹی کمیٹی کی تشکیل شامل ہے، کہا کہ اس نقشہ راہ میں یمن کے صدارتی و پارلیمانی انتخابات کی اعلی کمیٹی اور اقوام متحدہ کی زیر نگرانی تعمیرنو کے خصوصی فنڈ کا قیام بھی شامل ہے۔ عادل الشجاع نے کہا کہ اس نقشہ راہ کے مطابق حکومت وسیع اختیارات کی حامل ہو گی اور الیکشن کمیٹی بھی آئندہ چھے ماہ کے اندر صدارتی و پارلیمانی انتخابات کی مکمل تیاری اور انتخابات کرانے کا اعلان کرے گی۔
یمن کی اس سیاسی شخصیت نے اپنے ملک میں قتل عام و جرائم کا مکمل ذمہ دار، سعودی اتحاد کو قرار دیا اور کہا کہ یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے اسماعیل ولد الشیخ احمد نے یمن کے امن مذاکرات میں شریک تمام فریقوں کو نقشہ راہ پیش کر دیا ہے۔