Jul ۰۵, ۲۰۱۷ ۱۷:۲۳ Asia/Tehran
  • سعودی عرب برطانیہ میں انتہا پسندی پھیلانے میں ملوث

برطانیہ کی ہنری جیکسن سوسائٹی نے اپنی تازہ ترین تحقیقات کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب برطانیہ میں انتہاء پسندی پھیلانے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

ہنری جیکسن سوسائٹی کی رپورٹ میں آیا ہے کہ خلیج فارس کے چند ممالک نے برطانیہ میں انتہاپسندی کی تعلیم  دینے والے بعض مراکز اور تنظیموں کو مالی امداد دے کر اس ملک میں انتہاپسندی  پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ان ممالک میں سعودی عرب سرفہرست ہے  جس نے تعصب پر مبنی وہابی نظریات کی ترویج کر کے انتہاپسندی کو ہوا دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب سے مالی امداد حاصل کرنے والے بعض اداروں پر الزام ہے کہ برطانیہ میں قائم ان اداروں کا انتظام براہ راست سعودی عرب کے ہاتھ میں ہے۔

خارجہ تعلقات کے بارے میں تحقیقات انجام دینے والے برطانوی تھنک ٹینکز نے اپنے ملک کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتہاپسندی پر مبنی دینی عقائد کی سعودی عرب کی جانب سے حمایت کئے جانے کے بارے میں علانیہ تحقیقات کرے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی ترویج میں سعودی عرب کے کردار پر یہ تحقیقات پہلی بار انجام نہیں پائی ہیں بلکہ اس سے قبل برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے حکم پر اس زمانے کی وزیر داخلہ تھریسا مے کی وزارت کے دوران انتہاپسند تنظیموں کے بارے میں تحقیقات انجام دی گئی تھیں۔ ان تحقیقات میں بھی سعودی عرب پر انتہاپسندی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ لیکن ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود تھریسا مے ان تحقیقات کے نتائج کو منظر عام پر لانے سے اجتناب کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نتائج سامنے آنےکی صورت میں برطانیہ اور سعودی عرب کے انتہائی قریبی اسٹریٹیجک تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ برطانیہ کی گرین پارٹی کی رہنما کیرولائن لوکس (Caroline Lucas) نے اس بارے میں کہا ہے کہ ان تحقیقات کو منظر عام پر لائے جانے کے سلسلے میں ہونے والی تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ اس رپورٹ میں سعودی عرب پر الزامات عائد کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے یہ نتائج سعودی عرب اور برطانیہ کے سفارتی تعلقات پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔   

تھریسا مے جب سے وزیر اعظم بنی ہیں اس وقت سے وہ خلیج فارس کے ساحلی عرب ممالک کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے درپے ہیں۔ اور انہوں نے بریگزٹ کا معاملہ شروع ہونے کے بعد سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کیا جسے ایک بڑا علامتی اقدام شمار کیا جا رہا ہے۔

برطانیہ میں انتہاپسندوں کی غیر ملکی مالی امداد سے متعلق رپورٹ کا منظر عام پر نہ لایا جانا نیز مانچسٹر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد اور برطانیہ میں آٹھ جون کو ہونے والے قبل از وقت انتخابات کے ایام میں ایک متنازعہ مسئلے میں تبدیل ہوگیا تھا۔ لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے سربراہ ٹم فارون نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ کیمرون نے سنہ دو ہزار سولہ کے موسم بہار تک اس رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد وزارت داخلہ نے اعلان کردیا کہ یہ رپورٹ چونکہ بہت زیادہ حساس ہے اس لئے شاید کبھی بھی اسے منظر عام پر نہ لایا جاسکے۔

برطانوی پارلیمنٹ میں لیبر پارٹی کے رکن دن جرویس نے، کہ جو نئی رپورٹ کے نتائج کےحامی شمار ہوتے ہیں، کہا ہے کہ سعودی عرب اور انتہاء پسندی کی مالی حمایت کا باہمی تعلق بہت زیادہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طرح کی تنظیموں کو ملنے والی غیر ملکی امداد سے متعلق رپورٹ کو منظر عام پر لائے۔ برطانیہ سعودی عرب کے ہاتھ اپنے ہتھیار فروخت کرتا ہے اور اس بات کی متعدد رپورٹیں منظر عام پر آنے کے باوجود کہ اس ہتھیاروں کو یمن کے بچوں اور خواتین کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، تھریسا مے کی حکومت سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرنے پر تیار نہیں ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے دہشت گردی اور انتہاء پسندی کی مالی اور فکری حمایت کئے جانے پر مبنی برطانیہ کی ہنری جیکسن سوسائٹی کی تازہ ترین رپورٹ سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ برطانیہ کے تھنک ٹینکز اور اس ملک کی حکومت انتہاپسندی اور دہشت گردی کو پھیلانے والوں سے آگاہ ہے لیکن لندن سیاسی مصلحت پسندی، مشرق وسطی اور دنیا میں انتہاء پسندی کو ترویج دینے والے ملک کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات اور اقتصادی مفادات کی وجہ سے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے مقابلے کے سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ برطانوی حکومت اور دوسری بہت سی مغربی حکومتیں حتی یورپی ممالک میں بھی انتہاپسندی اوردہشت گردی کے جرم میں برابر کی شریک ہیں۔ 

ٹیگس