Dec ۱۵, ۲۰۱۸ ۱۶:۵۸ Asia/Tehran
  • شام میں دہشتگردوں کی مدد پر تشویش

مغربی ممالک خاص طور سے امریکہ برطانیہ اور فرانس نے اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر دوہزار گیارہ سے شام میں بدامنی اور پھر اس ملک میں داخلی جنگ شروع کر کے بشار اسد کی قانونی حکومت کا تختہ الٹنے کی امید پر دہشتگرد گروہوں کی ہمہ گیر حمایت شروع کی -

تاہم اب جب شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کو مسلسل کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اور دہشتگرد گروہ شکست سے دوچار ہو رہے ہیں تو انھیں اپنی امیدوں پر پانی پھرتا نظرآرہا ہے اور اسی وجہ سے وہ کسی نہ کسی بہانے سے دمشق کو کمزور کرنے کے اقدامات کررہے ہیں اور یہ مسئلہ اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شامی سرحدوں پر مسلسل چوتھے سال بھی عوامی مدد کے نام پر دہشتگردوں کی مدد کے منصوبے کو منظورکرانے کے لئے مغربی ممالک کی کوششوں کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے - اس اقدام پر شام کے حامیوں نے ردعمل ظاہر کیا ہے اور روس و چین نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں زمینی سرحدوں سے شامی عوام کی مدد کے بہانے دہشتگردوں کو مدد بھیجنے کے منصوبے کی مخالفت کی -

 سلامتی کونسل ، دوہزار چودہ سے اب تک دہشتگردوں کی حمایت کے نتائج کے بارے میں حکومت شام کے انتباہات کے باوجود ترکی عراق اور اردن کی سرحدوں سے مخالفین کے عنوان سے دہشتگردوں کے زیرکنٹرول علاقوں میں مدد بھیجنے کے اقدامات کرتی رہی ہے- اس سلسلے میں کویت اور سوئیڈن کی جانب سے منصوبہ پیش کئے جانے کے بعد اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے واسیلی نبنزیا نے اسے نامناسب اور موجودہ حقائق کے منافی قرار دیا اور کہا کہ اس وقت ایک گذرگاہ حکومت شام کے کنٹرول میں ہے اور اس ملک کے دوسرے علاقوں کے حالات بھی بدل چکے ہیں- نبنزیا کا کہنا ہے کہ شام میں مسائل کے باوجود روزبروز بڑھتا ہوا ثبات و استحکام قابل انکار نہیں ہے اور انسانی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے بہت سے مثبت اقدامات انجام پاچکے ہیں اورآئندہ بھی انجام پائیں گے - ماسکو کا خیال ہے کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ تباہی و بربادی پر قابو پانے اور اپنی مرضی سے شام واپس آنے والے پناہ گزینوں کی سیکورٹی کی ضمانت کے لئے شامی حکومت اور عوام کی مدد کے لئے رضاکارانہ طور پر اقدام کرے- سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے چین کے لئے بھی روس کا یہ موقف قابل قبول ہے-  سلامتی کونسل میں چین کے مندوب ماژاؤشو کا کہنا ہے کہ شام میں امداد رسانی کے اقدامات غیرجانبداری اورانصاف کے اصول پر اس ملک کی حکومت کی نگرانی میں سیاست سے دور رہتے ہوئے انجام پانے چاہئے-

 چین کو بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق حاصل ہے کہ جو روس کے ساتھ مل کر شام کی قانونی حکومت کی حمایت کے لئے اس کونسل میں اپنی طاقت سے استفادہ کرتا ہے- چین کی جانب سے حکومت شام کی حمایت بڑھنے کے پیش نظر اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ مغربی ممالک شام کے خلاف کوئی قرارداد منظورکریں اور یہ امر شامی صدر بشاراسد کی حکومت کے مزید مستحکم و مضبوط ہونے میں معاون ثابت ہوگا-

 اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ان دونوں اراکین کی نظر میں شامی سرحدوں پر عوام کی مدد کا منصوبہ پیش کرنے کا مغربیوں کا مقصد درحقیقت حکومت شام کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لئے دہشتگردوں کی لیجسٹک مدد کرنا ہے- اس سلسلے میں سلامتی کونسل میں برطانیہ کے مندوب کارین پیرس کا دعوی ہے کہ لاکھوں شامیوں کی مدد ضروری ہے - لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مغربیوں نے گذشتہ آٹھ برسوں کے دوران واقعی شامی عوام کی مدد کی ہے ؟ یا وہ شامی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے صرف دہشتگرد گروہوں کی مدد کرتے رہے ہیں-

 سوئیڈن کے سیاسی امور کے ماہر آرون لونڈ کا کہنا ہے کہ بشاراسد نے اسٹریٹیجک لحاظ سے ان دشمنوں کو شکست دے دی ہے جو انھیں معزول کرنا چاہتے تھے - اس وقت دہشتگرد گروہوں کی پوزیش پوری طرح کمزور ہوچکی ہے اور حکومت شام اپنے اتحادیوں یعنی روس ، ایران اور حزب اللہ کے ساتھ مل کر دوسرے حصوں میں اپنی کامیابی مکمل کرنا چاہتی ہے اور یہ مغربیوں اور ان کے ان عرب اتحادیوں کے لئے ایک ڈراؤنے خواب کی حیثیت رکھتا ہے کہ جو شام میں اپنی برسوں کی سرمایہ کاری کو تباہ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں-

ٹیگس