Jun ۱۷, ۲۰۲۰ ۱۸:۴۹ Asia/Tehran
  • لداخ سیکٹر میں جھڑپ، ہندوستان اور چین کے دسیوں فوجی ہلاک اور زخمی

ہندوستان اور چین کے درمیان خونریز سرحدی جھڑپ کے بعد دونوں ملکوں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

چین کی فوج نے سرحدی علاقوں میں کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز اقدامات کے بارے میں ہندوستان کو خبردار کیا ہے۔ چینی فوج کی مغربی کمان کے ترجمان کرنل جانگ شیولی نے لداخ کے علاقے درہ گلوان میں دونوں ملکوں کی سرحدی سیکورٹی فورس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بارے میں ہندوستان سے کہا ہے کہ وہ بقول ان کے سرحدوں پر اشتعال انگیز اقدامات کا سلسلہ بند کردے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ درہ گلوان شروع ہی سے چین کی عملداری میں رہا اور ہندوستان کی بارڈر سیکورٹی فورس نے دونوں ملکوں کے فوجی کمانڈروں کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کی خلاف ورزی کر کے باہمی فوجی تعلقات اور چین اور ہندوستان کے عوام کے تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔

چینی فوج کی مغربی کمان کے ترجمان کے جاری کردہ بیان میں ہندوستان سے کہا گیا ہے کہ وہ بات چیت اور مذاکرات کے درست راستے کو اپنائے تاکہ موجودہ اختلافات کو حل کیا جا سکے۔

دوسری جانب ہندوستان نے کہا ہے کہ یہ صورتحال چین کی جانب سے اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے اور بقول اس کے ہندوستانی علاقے سے پیچھے نہ ہٹنے کی بنا پر پیش آئی ہے اور چین نے مذاکرات میں ہونے والے اتفاق رائے کی خلاف ورزی کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی فوج نے منگل کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ لداخ سیکٹر کے علاقے درہ گلوان میں چینی فوجیوں کے ساتھ ہونے والے جھڑپ کے دوران اس کے بیس فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چار ہندوستانی فوجی اب بھی شدید طور پر زخمی ہیں۔

ہندوستانی ذرائع کا کہا ہے کہ اس جھڑپ میں کم سے کم تینتالیس چینی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

پچھلے چند ماہ کے دوران چین اور ہندوستان کی سرحدی سیکورٹی فورس کے درمیان لداخ کی سرحد پر کئی بار جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

ٹیگس