ہندوستان میں یوم جمہوریہ، کسان ریلی کی خبریں سرخیوں میں رہیں
ہندوستان میں منگل کو بہتر واں یوم جمہوریہ منایا گیا اور یوم جمہوریہ کی تقریب کے موقع پر دارالحکومت دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔ اس موقع پر یوم جمہوریہ کی سرکاری تقریبات کے ساتھ ساتھ نئی دہلی میں ہوئی کسان ٹریکٹر ریلی کی خبریں بھی میڈیا کی سرخیوں میں رہیں۔
یوم جمہوریہ کی تقریب کے موقع پر ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی میں چاروں طرف سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے اور اس کےلئے ہزاروں مسلح اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔
اس موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے صدر رامناتھ کووند نے کہا ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے بعد ہندوستان، جمہوریت کا دنیا میں وسیع مثالی ماڈل بن کر ابھرا ہے۔
ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے یوم جمہوریہ کے موقع پر ہندوستانی عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انیس سو پچاس میں آج کے دن ہمارا آئین نافذ ہوا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے ملک میں جمہوریت کا دفاع کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
ادھر ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اس ملک کے بہتر ویں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے پیش نظر تمام مواصلاتی کمپنیوں کی موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئیں جبکہ کشمیر میں یوم جمہوریہ پر عام ہڑتال اور یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا گیا۔
دوسری جانب ہریانہ، راجستھان، پنجاب، یوپی سمیت کئی ریاستوں سے قافلوں کی شکل میں دارالحکومت دہلی کی سمت بڑی تعداد میں کسانوں کی آمد جاری رہی، حکومت نے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں لیکن کاشتکار کسی رکاوٹ کو خاطر میں لائے بغیر آگے بڑھتے چلے گئے۔ مظاہرین نے مودی سرکار کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا اور وہ بدستور زرعی قوانین واپس لینے کے مطالبہ پر قائم ہیں۔
دریں اثنا زرعی قانون کے خلاف پچھلے دو مہینوں سے تحریک چلانے والے کسانوں کی مکربا چوک پر پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور حالات پر قابو پانے کے لئے پولیس نے آنسوں گیس کے گولے چھوڑے اور لاٹھی چارج کی۔ اس کے ساتھ اکشردھام کے پاس بھی کسانوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے پولیس نے آنسوں گیس کے گولے چھوڑے۔
کسانوں نے سنگھو بارڈر کے پاس پولیس کے ذریعہ طے کئے گئے وقت سے پہلے زبردستی بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ پولیس نے مکربا چوک پر بھاری بندوبست کیا تھا تاکہ کسانوں کو دوسرے راستے پر موڑا جا سکے۔ مکربا چوک پر بیری کیڈنگ توڑ کر کچھ کسان آؤٹر رنگ روڈ کی طرف کوچ کر گئے۔
اس سے پہلے سنجے گاندھی ٹرانسپورٹ نگر میں کسانوں کو تتربتر کرنے کے لئے پولیس نے آنسوگیس کا استعمال کیا۔ سنگھو بارڈر سے کسانوں کی ٹریکٹر ریلی یہاں پہنچی تھی۔ پولیس نے کسانون کو آؤٹر رنگ روڈ کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لئے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور لاٹھیاں چلائیں لیکن کسان پولیس بندوبست کو توڑتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ اس دوران کچھ پولیس اہلکار اور کچھ کسان بھی زخمی ہوئے۔
واضح رہے کہ پولیس افسروں اور کسانوں کے درمیان کئی مرحلوں کی بات چیت کے بعد ٹریکٹر ریلی کے لئے اجازت دی گئی تھی اس کے لئے وقت اور راستہ بھی طے کیا گیا تھا لیکن کسان دونوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آگے بڑھے جس کی وجہ سے کچھ مقامات پر تصادم ہوا۔