Jan ۰۸, ۲۰۲۶ ۱۵:۰۴ Asia/Tehran
  • ہندوستان: بہار میں باحجاب خواتین پر نئی پابندی، زیورات کی دکانوں میں داخل ہونے کی ممانعت

ہندوستان کی ریاست بہار میں جولرز اینڈ گولڈ فیڈریشن نے ریاست کی جولری دکانوں میں باحجاب و نقاب خواتین کے داخل ہونے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سحرنیوز/ہندوستان: میڈیا رپورٹوں کے مطابق آل انڈیا جولرز اینڈ گولڈ فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ جو خواتین اپنے چہرے کو حجاب یا نقاب سے ڈھانپے ہوئے ہوں گی انہیں زیورات کی دکانوں اور شو روموں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس فیصلے کے مطابق اب بہار میں زیورات چہرہ دکھانے کے بعد ہی خریدے جاسکتے ہیں۔

آل انڈیا جولرز اینڈ گولڈ فیڈریشن کے مطابق بہار ایسی پہلی ریاست ہے جس نے اس طرح کے اصول کو لاگو کیا ہے۔ آل انڈیا جولرز اینڈ گولڈ فیڈریشن کے ریاستی صدر اشوک کمار ورما نے بتایا کہ یہ قدم زیورات کی دکانوں میں ہو رہی چوری اور لوٹ پاٹ کے واقعات کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے جو فیصلہ کیا ہے وہ مکمل طور پر سیکورٹی خدشات پر مبنی ہے۔ 10 گرام سونے کی قیمت 140,000 روپے ہے اور ایک کلو چاندی کی قیمت 250,000 روپے ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگ دکانوں میں منہ چھپا کر داخل ہوتے ہیں۔ وہ ہیلمیٹ، گھونگھٹ یا نقاب کے ساتھ تین یا چار کے گروہ میں داخل ہوتے ہیں اور لوٹ پاٹ کرتے ہیں۔"

اشوک کمار ورما نے کہا کہ ہمارا مقصد برقع پر پابندی لگانا نہیں ہے، بلکہ حجاب یا برقع پہننے والوں سے درخواست کرنا ہے کہ چہرہ دکھا کر ہی خریداری کریں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ خواتین ہماری بات مانیں گی اور اس میں تعاون کریں گی۔

اشوک کمار ورما نے نہ صرف حجاب پہننے والی خواتین سے بلکہ گمچھا یا ہیلیمٹ پہننے والے مَردوں سے بھی اپیل کی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ان کا چہرہ پہچانا نہیں جا سکتا۔ 

ہمیں فالو کریں: 

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

بہار میں اس فیصلے کی مخالفت کے امکان کے بارے میں اشوک ورما نے کہا کہ "کسی قسم کی مخالفت کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہمارے عملے کا کوئی بھی مرد یا خاتون رکن خود سے حجاب نہیں ہٹائے گا۔" ہم ان سے درخواست کریں گے تو اس میں کسی قسم کے جھگڑے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

 

ٹیگس