ہندوستان: تجارتی معاہدے کے سلسلے میں امریکی دعوی غلط
ہندوستان کی وزارت خارجہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ تجارتی معاہدے کی غرض سے مذاکرات کے بارے میں امریکہ کا دعوی غلط ہے -
سحرنیوز/ہندوستان: ہندوستان سے موصولہ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ہندوستان کے درمیان جاری تجارتی معاہدے کے مذاکرات کے حوالے سے امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کے بیان پر گرما گرم بحث جاری ہے۔
انہوں نے دعوی کیا کہ معاہدہ نہیں ہو سکا کیونکہ وزیر اعظم مودی نے تجارتی معاہدے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو فون نہیں کیا۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے لٹنک کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے دوہزار پچیس سے اب تک ٹرمپ سے آٹھ بار بات کی ہے۔امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کے بیان کے حوالے سے وزارت خارجہ نے کہا کہ "ہندوستان اور امریکہ گزشتہ سال فروری سے تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
دونوں فریقین نے کئی دور کی بات چیت کی ہے اور ہاورڈ لٹنک کے بیان میں دی گئی ان بات چیت کی تفصیلات درست نہیں ہیں۔ہمیں امید ہے کہ یہ معاہدہ طے پا جائے گا۔ ہم کئی بار ڈیل کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔واضح رہے کہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان تجارتی معاہدے کے حوالے سے ابھی تک کچھ طے نہیں پا سکا ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کو پچاس فیصد امریکی ٹیرف کا سامنا ہے-
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے ہندوستان کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے روس سے تیل کی درآمدات میں کمی نہ کی تو ٹیرف مزید بڑھائے جا سکتے ہیں۔