Jan ۳۰, ۲۰۲۱ ۰۸:۵۲ Asia/Tehran
  • ایران کے وزیر خارجہ کی ترک صدر سے ملاقات

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوغان اور دیگر اعلی عہدیداروں سے ملاقات کی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے اپنے علاقائی دورے کے پانچویں مرحلے میں انقرہ میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات کی جس میں باہمی تعلقات کے فروغ، علاقے کی صورتحال اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی وزیرخارجہ اور ترک صدر نے اس ملاقات کے دوران مختلف شعبوں میں باہمی تعاون میں توسیع کی ضرورت پر زور دیا اور خطے کے استحکام کے تعلق سے  تہران اور انقرہ کے کردار پر تاکید کی۔

اس سے پہلے ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے ترک ہم منصب مولود چاووش اوغلو سے ملاقات اور تہران انقرہ تعلقات کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔ بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے امریکہ پر زور دیا تھا کہ وہ ایٹمی معاہدے میں واپس آئے اور پابندیوں کو ختم کرنے کے اپنے وعدوں پر عمل کرے۔   

 ایران کے وزیر خارجہ نے  ایٹمی معاہدے کے حوالے سے نئے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے بیان کا جواب دیتے ہوئے  واضح کیا کہ اس معاہدے میں واپسی اور اس پر عملدرآمد کرنا اب امریکہ کی ذمہ داری ہے۔

 وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ امریکہ، ایران اور پانچ دیگر ملکوں نے طویل مذاکرات کے دوران تمام معاملات پر غور خوض کے بعد ایٹمی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور سلامتی کونسل سے اس کی توثیق کرائی تھی۔

 ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایٹمی معاہدہ بداعتمادی کے ماحول میں طے پایا تھا لہذا اس میں اس میکنیزم کو مد نظر رکھا گیا تھا کہ اگر معاہدے کا کوئی فریق اس پر عمل نہ کرے تو فریق مقابل بھی اس پر عملدرآمد روک سکتا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ واشنگٹن نے صرف اس معاہدے سے علیحدگی اختیار نہیں کی ہے بلکہ وہ اس معاہدے کی پابندی کرنے والے دیگر ملکوں پر بھی دباؤ ڈالتا رہا ہے جو قانون شکنی کی واضح مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے اقدامات ایٹمی معاہدے کے مطابق ہیں اور امریکی اقدامات کی تلافی کے زمرے میں آتے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جیسے ہی امریکہ ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کا آغاز کرے گا اور اس کے فوائد ایران کو محسوس ہونے لگیں گے تہران بھی اپنے وعدوں پر عملدرآمد کا سلسلہ پھر سے شروع کردے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اعلی ترین سطح پر یعنی رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے اعلان کی جاچکی ہے۔   

 تہران انقرہ تعلقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دشوار ترین حالات میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم رہے ہیں اور آج ہم نہ صرف شام بلکہ قفقاز کے علاقے میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

 

 

ٹیگس