Feb ۲۵, ۲۰۲۱ ۲۰:۰۱ Asia/Tehran
  • ایران نے ایٹمی معاہدے پر عمل کیا، امریکہ کا اعتراف

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعتراف کیا ہے کہ ایران، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان علیحدگی سے پہلے تک ایٹمی معاہدے پر پوری طرح سے عمل کر رہا تھا۔

نیڈپرائس نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کی رپورٹیں اس بات کی گواہ ہیں ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی سے پہلے تک ایران اس معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر مکمل علمدرآمد کر رہا تھا۔
امریکہ وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ میں ایک بات کی یاد دھانی کرانا چاہتا ہوں کہ ہمیں ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے ائی اے ای اے پر مکمل اعتماد ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد جاری تھا تو ایران بھی اس کا مکمل خیال رکھ رہا تھا۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ آئی اے ای اے کے عہدیدار بھی ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی پابندی کے حوالے سے پوری طرح راضی تھے۔
نیڈپرائس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی ایوان نمائندگان کے چالیس ری پبلکن ارکان نے بائیڈن انتظامیہ کو منتبہ کیا ہے کہ وہ کانگریس کو بائی پاس کرکے ایٹمی معاہدے میں واپسی اور ایران کے خلاف عائد پابندیاں اٹھانے سے گریز کرے۔
دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ ہکوماس نے کہا ہے کہ انکا ملک ایٹمی معاہدے میں امریکی واپسی کے حوالے سے معاہدے کے دیگر فریقوں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کر رہا ہے جو آئندہ تین ماہ تک جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی آئندہ تین ماہ کے دوران ایٹمی معاہدے کے دیگر شرکا کے ساتھ، امریکہ کی واپسی کے طریقہ کار کے بارے میں صلاح مشورے کرے گا اور ہم اس حوالے سے پر امید ہیں۔
ہیکوماس نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی غیر قانونی علیحدگی کی جانب کوئی اشارہ کیے بغیر ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ ایٹمی معاہدے کی بحالی کے حوالے سے مغرب کی سفارتی تجاویز کو قبول کرلے۔
درایں اثنا اقوام متحدہ میں روس کے نائب مندوب دی متری پولیانسکی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے میں امریکہ کی واپسی کا کوئی خودکار نظام موجود نہیں ہے۔ انہوں ایٹمی معاہدے کے باقی ماندہ رکن ملکوں پر زور دیا کہ وہ امریکی واپسی کا مناسب اور قانونی طریقہ کار تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

ٹیگس