ایران و یوکرین کے وزرائے خارجہ کی گفتگو، بحران کے سیاسی راہ حل پر زور
ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے یوکرینی ہم منصب سے گفتگو میں ایک بار پھر یوکرین میں بحران کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللھیان نے اپنے یوکرینی ہم منصب دیمتری کولبا سے پیر کے روز ٹیلیفونی گفتکو کی جس میں، بحران یوکرین کے سیاسی راستے سے حل کے اپنے موقف کو دہرایا۔ اس ٹیلیفوین گفتگو میں سفارتی مراکز، انسانی امداد بھیجنے کے علاوہ باہمی دلچسپی کے موضوعات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
ایران کے وزیر خارجہ نے اس ٹیلیفونی گفتگو میں جنگ کی مخالفت پر مبنی اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے سیاسی و سفارتکاری کے راستے سے بحران کے حل پر توجہہ دینے پر تاکید کی اور ترکی میں روس-یوکرین کے وزرائے خارجہ کی حالیہ ملاقات کو اہم بتایا۔ حسین امیر عبد اللھیان نے سیاسی طریقۂ کار کے جاری رہنے اور اسے استحکام بخشنے پر بھی زور دیا۔
امیر عبداللہیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران یوکرین کے بحران کے حل کے لئے ہر سیاسی کوشش کی حمایت کرتا ہے اور ہم بنا کسی تفریق کے جنگ کے مخالف ہیں چاہے وہ یوکرین میں ہو یا پھر افغانستان و یمن وغیرہ میں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران یوکرین-پولینڈ کی سرحد پر ریڈ کریسنٹ کی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھیجنے کے لئے ہماہنگی کر رہا ہے تاکہ پناہ گزینوں کی کچھ مدد ہو سکے۔اسی طرح ایرانی وزیر خارجہ نے یوکرینی حکومت سے 4 افراد پر مشتمل ایک ایرانی کنبے کو جنگ زدہ علاقے سے نکالنے میں مدد کرنے کی اپیل کی۔
اس ٹیلیفونی گفتگو میں یوکرین کے وزیر خارجہ دیمتری کولبا نے جنگ کی مخالفت پر مبنی ایران کے موقف اور یوکرین-پولینڈ کی سرحد پر ایران کی طرف سے انسانی امداد بھیجے جانے پر شکریہ ادا کیا اور تاکید کی کہ یوکرینی حکومت ایران سے سبھی سفارتی و غیر سفارتی مراکز کی حفاظت کی پوری کوشش کرے گي۔
کولبا نے جنگ کے رکنے پر مبنی اپنے ملک کے موقف کو دہرایا اور روسی ہم منصب سے اپنی حالیہ گفتکو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، بحران کے خاتمے کے لئے گفتگو کے سلسلے کے جاری رہنے کو ضروری قرار دیا۔