"اجتماعی تباہی کے ہتھیار ہی سیکورٹی کی پختہ گارنٹی"، سابق روسی صدر میدویدیف کے بیان سے عالمی سیاست میں ہلچل
روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف کے ایک بیان نے کہ ’’اجتماعی تباہی کے ہتھیار ہی قومی سیکورٹی کی واحد پختہ گارنٹی ہیں‘‘ عالمی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔
سحرنیوز/دنیا: اطلاعات کے مطابق ایک روسی اخبار ’کومرسینٹ‘ کو دئیے گئے انٹرویو میں روس کے سابق صدر اور روسی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ اجتماعی تباہی کے ہتھیار ہی قومی سیکورٹی کی واحد پختہ گارنٹی ہیں۔ میدویدیف کے اس بیان سے عالمی سیاست میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ دمتری میدویدیف نے یہ بھی کہا کہ دنیا کے عدم استحکام کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے زیادہ سے زیادہ ممالک نیوکلیائی ہتھیاروں کو حاصل کرنے کی سمت میں کام کریں گے۔
اپنے انٹرویو میں روس کے سابق صدر نے نیوکلیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر اپنی مایوسی ظاہر کی اور کہا کہ ’’دنیا کے نظام میں جو شگاف پڑا ہے، وہ کئی ممالک کو خود کی سیکورٹی کے سب سے اثردار طریقے تلاش کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’کچھ ممالک طے کریں گے کہ سب سے اچھا متبادل نیوکلیائی اسلحہ حاصل کرنا ہے، کئی ممالک کے پاس ملٹری نیوکلیئر پروگرام چلانے کی تکنیکی صلاحیت ہے اور کچھ اس سمت میں تحقیق کر رہے ہیں۔ یہ شاید انسانیت کے مفاد میں نہ ہو، لیکن سچ کہیں تو انسانیت نے ابھی تک خود کی حفاظت اور خود مختاری کی گارنٹی دینے کا کوئی دوسرا طریقہ تلاش نہیں کیا ہے۔‘‘
دمتری میدویدیف کا کہنا تھا کہ امریکی لگاتار ہمیں سخت جواب دینے کے لیے اُکسا رہے ہیں اور ان کی اکسانے والی حرکتیں جاری ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ روس نے حال ہی میں یوکرین کے ایک ملٹری پلانٹ کے خلاف اپنے نئے اوریشنک میڈیم رینج میزائل کا استعمال کیا، جس میں نیوکلیائی ورژن بھی شامل ہو سکتا تھا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
انھوں نے امریکہ کے گولڈن ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹم کو بے حد خرناک بتایا اور کہا کہ یہ میزائل ڈیفنس سسٹم روس کے لیے بہت اکساوے والا ہے اور اس سے اسٹریٹجک توازن بگڑ سکتا ہے۔