حالیہ معاہدہ ایرانی قوم کی مزاحمت کا نتیجہ ہے : صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان
https://urdu.sahartv.ir/news/iran-i453376-حالیہ_معاہدہ_ایرانی_قوم_کی_مزاحمت_کا_نتیجہ_ہے_صدر_ڈاکٹر_مسعود_پزشکیان
صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دشمن کی حکمتِ عملی کی ناکامی میں عوام کی مزاحمت نے فیصلہ کن کردار ادا کیا
(last modified 2026-06-29T10:00:23+00:00 )
Jun ۲۹, ۲۰۲۶ ۱۳:۳۰ Asia/Tehran
  • حالیہ معاہدہ ایرانی قوم کی مزاحمت کا نتیجہ  ہے : صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان

صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دشمن کی حکمتِ عملی کی ناکامی میں عوام کی مزاحمت نے فیصلہ کن کردار ادا کیا

سحرنیوز/ایران:     صدرِ مملکت نے قم میں  آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی سے ملاقات میں دشمن کی حکمتِ عملی کی ناکامی میں عوام کی مزاحمت کو سراہتے ہوئے حالیہ معاہدے اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو قومی مزاحمت کی ایک اہم کامیابی قرار دیا۔

صدر ڈاکٹر پزشکیان نے حالیہ مہینوں کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے دشمنوں کے دباؤ اور دھمکیوں کے مقابلے میں ایرانی عوام کی استقامت کو سراہا اور کہا کہ حالیہ جنگ میں اگرچہ دشمنوں نے عظیم الشان رہبر، وزرا، فوجی کمانڈروں، متعدد ممتاز شخصیات اور حتیٰ کہ ہمارے طلبہ کو بھی شہید کیا، لیکن عوام، مسلح افواج اور حکومت نے متحد ہو کر ملک کا دفاع کیا اور دشمن کو اپنے مقاصد حاصل کرنے نہیں دیے۔

 انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیلی حکومت نے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں استعمال کیں۔ صدر ڈاکٹر پزشکیان نے کہا کہ دشمن خیال تھا کہ اقتصادی دباؤ اور داخلی حالات کو خراب کر کے ایران کو کمزور کر دیا جائے گا، لیکن عوام کی حمایت نے ان کے تمام اندازے ناکام بنا دیے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ایرانی قوم کی مدد فرمائی۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

 صدر نے مزید کہا کہ حکومت نے غیر معمولی حالات اور ممکنہ دباؤ سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیاریاں کر رکھی تھیں۔ دشمن نے گیس کی پیداوار، پیٹروکیمیکل صنعتوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنا کر ترقی اور پیداوار کا عمل روکنے کی کوشش کی۔ اسی طرح تیل کی فروخت پر پابندیوں کے ذریعے بے روزگاری اور معاشی مشکلات بڑھانے کی کوشش کی گئی، مگر ایرانی قوم کے عزم اور مشیت  الہی سے ملک ترقی اور سربلندی کے راستے پر قائم رہا۔

مسعود پزشکیان نے حالیہ معاہدے کو ایرانی قوم کی ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت تیل اور پیٹروکیمیکل شعبوں پر عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔

ان کے مطابق قطر میں موجود ایران کے 12 ارب ڈالر میں سے 6 ارب ڈالر وطن واپس لائے جائیں گے، جبکہ باقی رقم کی واپسی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

صدر نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا مؤقف پہلے کی طرح یہی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا خواہش مند نہیں، اور اس کی تمام جوہری سرگرمیاں صرف ملکی ضروریات اور اعلان کردہ پالیسیوں کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آخرکار امریکہ نے اسرائیلی حکومت کو اس معاہدے کو قبول کرنے پر مجبور کیا، اگرچہ اسرائیل اور بادشاہت کے حامی بعض گروہ اب بھی اس معاہدے کے مخالف ہیں۔

 اس ملاقات میں آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی نے بھی کہا کہ حالیہ خطرات اور حملوں کے مقابلے میں ایرانی قوم کی مزاحمت اللہ تعالیٰ کی خاص مدد اور عنایات کا نتیجہ ہے، اور ان شاء اللہ یہ مدد الٰہی آئندہ بھی جاری رہے گی۔