یمن پر سعودی عرب کی جارحیت جاری ہے
یمن پر سعودی حکومت کے جنگی طیاروں کے وحشیانہ حملوں کا سلسلہ پیر کو بھی جاری رہا۔
یمنی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق دارالحکومت صنعا پر سعودی جنگی طیاروں کی بمباری میں اس جج کے گھرانے کے کئی افراد شہید ہوگئے جس کی عدالت میں سابق مفرور صدر منصور ہادی کا کیس چل رہا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پیر کو صنعا پر وحشیانہ فضائی حملے میں ایک سعودی جنگی طیارے نے جسٹس یحی ربید کے گھر پر بمباری کردی جس میں ان کے گھرانے کے چھے افراد شہید ہوگئے۔ اس کے علاوہ صنعا کے دیگر علاقوں پر بھی سعودی جنگی طیاروں کی بمباری میں متعدد افراد کے شہید اور زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے جنگی طیاروں نے تعز کے علاقے مثلث الزاہدہ پر بھی بمباری کی۔ اس بمباری میں ممکنہ طور پر ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی تفصیلات موصول نہیں ہوسکی ہیں۔ اسی کے ساتھ صوبہ حجہ کے مختلف علاقوں پر بھی سعودی بمباری میں کچھ عام شہریوں کے شہید اور زخمی ہونے کی رپورٹ ہے۔
رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے جنگی طیاروں نے پیر کو صوبہ مآرب کے شہر الصرواح کے رہائشی علاقوں پر کم سے کم چـار بار بمباری کی۔ الصرواح پر تازہ فضائی حملوں میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی تفصیلات دستیاب نہیں ہو سکی ہیں۔