سعودی اتحاد میں جھڑپیں 10 ہلاک 100زخمی
یمن کے جنوب میں واقع شہر عدن میں سعودی اتحاد سے وابستہ فوجیوں کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں متعدد فوجی ہلاک و زخمی ہوگئے ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جنوبی یمن کے ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز عدن کے ساحلی شہر کے مختلف علاقوں میں سعودی عرب کے اتحادی یمن کے مستعفی صدراور متحدہ عرب امارات کی فورسز کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں 10 فوجی ہلاک اور 100زخمی ہو گئے۔ سعودی اتحاد کے مابین یہ خطرناک ترین جھڑپیں تھیں۔ جنوبی یمن کی انقلابی مووومنٹ کے سیاسی سیل کے نائب صدر مدرم ابوسراج کا کہنا تھا کہ عدن کی صورتحال متحدہ عرب امارات کی وجہ سے بحرانی ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ یمن کا بحران 2015 میں اس ملک پر سعودی عرب کے حملے کے وقت سے شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے اور تقریبا تین سال کی اس مدت میں اکیس ہزار سے زیادہ یمنی شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ یہ حملے یمن کے عوام کے قتل عام کے علاوہ اس ملک کی بنیادی تنصیبات کی بھی ویرانی اور تباہی و بربادی کا باعث بنے ہیں۔
سعودی عرب نے اس ملک کے عوام کو شدید محاصرے میں رکھا ہے اور اس وقت یمنی عوام وسیع پیمانے پر انسانی بحران سے دوچار ہیں کہ جسے صدی کا انسانی المیہ کہا جا رہا ہے۔ یمن کے خلاف سعودی عرب کے وسیع حملوں پر رائے عامہ نے اپنا ردعمل ظاہرکیا ہے تاہم عالمی برادری اور ان میں سرفہرست اقوام متحدہ کے لچکدار رویوں کے باعث یہ حملے بدستور جاری ہیں
اقوام متحدہ نے اپنے اس رویے کے سبب یمن کے بحران کے سلسلے میں قابل قبول کارنامہ پیش نہیں کیا ہے اور وہ یمن میں سعودی عرب کے جرائم رکوانے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔