Jun ۰۳, ۲۰۱۹ ۰۵:۰۰ Asia/Tehran
  • ... حوصلے لڑتے ہیں تعداد سے کیا ہوتا ہے (دوسرا حصہ)

سعود عرب نے یمن میں شہری تنصیبات کو تو شدید نقصان پہنچایا تاہم یمنی فوج اور رضاکار فورسز کو وہ کسی بھی محاذ پر کمزور نہیں کر پایا ۔

ڈرون حملوں نے جنگ کے توازن میں کافی تبدیلی کر دی اور اس سے یمنی فوج اور رضاکار فورسز کی طاقت سامنے آئی جو جنگ کے سخت ترین حالات میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔

جب نجران کے ہوائی اڈے پر حملہ کیا گیا اور ہتھیاروں کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا تو ہنگامہ مچ گیا ۔ جہاں ڈرون طیاروں نے راکٹ فائر کیا وہاں آگ لگ گئی۔ اس کے دوسرے ہی دن یمنیوں نے پھر اسی ہوائی اڈے کو ڈرون سے نشانہ بنایا جبکہ اس بعد والے دن پھر سے حملہ کیا ۔

سعودی عرب نے دو دن کے حملوں کے بعد اپنی سیکورٹی الرٹ کر دی تھی لیکن اس اگلے ہی دن ڈرون حملے میں پیٹریاٹ میزائل کی بیٹری کو ہی نشانہ بنایا گیا ۔

ان ڈرون حملوں کے متعدد اہم پہلو ہیں ۔ ایک اہم پہلو تو یہی ہے کہ اس حملے کے لئے خفیہ اطلاعات جمع کی گئیں اور ٹارگٹ کا بڑی کامیابی کے ساتھ انتخاب کیا گیا اور اسے تباہ کیا گیا ۔

دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ یمنیوں نے مسلسل تیسرے دن حملہ کرکے یہ ثابت کر دیا کہ ان کے حملوں کو روکنے کے لئے سعودی عرب کے پاس کوئی موثر انتظام نہیں ہے ۔ اس طرح امریکی ساخت کے پیٹریاٹ میزائلوں کی کارآمدگی پر سوالیہ نشان لگ جاتے ہیں ۔

تیسرا پیغام یہ ہے کہ یمنی فوج اور رضاکار فورسز مزید ذمہ داری سے اپنے حملے کر رہی ہيں ۔ سعودی عرب پر اس پوری جنگ کے دوران یہ الزام عائد ہوتا رہا ہے کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ حتی کچھ ممالک نے اسے ہتھیار فروخت کرنے سے انکار بھی کر دیا۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب کا سمندری جہاز دو یورپی ممالک کی بندرگاہوں سے خالی واپس ہوا کیونکہ اسے وہاں ہتھیار فروخت نہیں کئے گئے تاہم یمنی فوج اور رضاکار فورسز نے سعودی عرب پر حملے کرتے ہوئے اس بات کا پورا خیال رکھا ہے کہ عام شہری نشانہ نہ بننے پائیں ۔   

ویسے سعودی عرب کی حکومت یہ الزام عائد کرتی رہتی ہے کہ تحریک انصار اللہ نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم سعودی عرب کے اس دعوے پر کوئی بھی یقین کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

مقدس مقامات کے بارے میں یمن کی تحریک انصار اللہ کا کہنا ہے کہ اگر اسے پوری طرح تباہ کر دیا جائے تب بھی وہ مکہ مکرمہ جیسے مقدس شہر کو نشانہ بنانے کا تصور ہی نہیں کر سکتی ۔

البتہ اس بارے میں سعودی عرب کا ماضی بہت ہی خراب ہے ۔ سعودی حکومت امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ڈیل آف سینچری کو کامیاب بنانے میں مصروف ہے جو نہ صرف فلسطینیوں کے خلاف خطرناک سازش ہے بلکہ مسجد الاقصی کے خلاف بھی بہت بڑی سازش ہے ۔

ٹیگس