یمن کے محاصرے کا خاتمہ، امریکہ کے ہاتھ میں ہے
یمن کی نیشنل سالویشن حکومت میں قیدیوں کے امور کی کمیٹی کے چیئرمین نے کہا ہے کہ یمن کا محاصرہ جاری رہنے اور یا ختم ہونے کا فیصلہ امریکہ کے اختیار میں ہے۔
یمن کی نیشنل سالویشن حکومت میں قیدیوں کے امور کی کمیٹی کے چیئرمین عبدالقادر المرتضی نے کہا ہے کہ یمنی قوم اس بات کو بخوبی جانتی ہے کہ ان کے ملک کے محاصرے کے جاری رہنے اور یا ختم ہونے کے فیصلے کا دارومدار امریکہ پر ہے اور اس سلسلے میں سعودی عرب کچھ بھی کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔
کچھ دنوں قبل یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے بھی کہا تھا کہ جنگ یمن کے حل کے لئے سفارتی عمل کا آغاز، یمن پر جارحیت بند اور یمن کا محاصرہ ختم کئے جانے سے ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل خوراک کی عالمی تنظیم نے خبردار کیا تھا کہ سعودی اتحاد الحدیدہ بندرگاہ کو ایندھن پہنچائے جانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ اس عالمی تنظیم نے تاکید کی ہے کہ یمن میں ایندھن کی شدید قلت ہے اور صحیح خوراک کا فقدان ہے جس سے اس ملک کو ہولناک انسانی المیے کا سامنا ہے۔
یمن کا جاری محاصرہ، اس ملک میں قحط، بھوک مری اور غذائی اشیا و دواؤں کی شدید قلت کا باعث بنا ہے جس کی بنا پر اس ملک کو تاریخ کے بدترین انسانی المیے کا سامنا ہے۔
دوسری جانب یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفیتھس نے ایک رپورٹ میں تاکید کی ہے کہ جنگ بندی، صنعا ایئرپورٹ کا کھولا جانا اور ایندھن سمیت مختلف قسم کی ضروریات کی اشیا کی منتقلی ایسے امور ہیں جن کو یمن میں عام شہریوں کی ابتر صورت حال پر قابو پانے کے لئے فوری طور پر انجام دیئے جانے کی اشد ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ مآرب میں یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کی فوجی کارروائی اور صنعا پر بڑھتے فضائی حملے اور اسی طرح سعودی عرب پر جاری میزائل اور ڈرون حملوں سے یمن میں جنگ بہت زیادہ شدت اختیار کر گئی ہے۔
ان کا یہ بیان ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ صنعا کی حکومت نے یمنی بحری جہازوں کو روکے جانے اور یمن کے ہوائی اڈوں کی سرگرمیاں بند ہو جانے پر اقوام متحدہ کی خاموشی کو بارہا ہدف تنقید بناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نہیں چاہتی کہ یمن میں جنگ بندی کا قیام عمل میں آئے۔
یمنی عوام کے خلاف سعودی اتحاد کی جارحیت اپنے ساتویں سال میں داخل ہونے والی ہے جبکہ جنگ کے علاوہ یمن کو چھے برسوں کے دوران مکمل محاصرے کا سامنا رہا ہے اور اس جنگ میں اب تک سترہ ہزار سے زائد یمنی شہری شہید اور دسیوں ہزار زخمی نیز تقریبا چالیس لاکھ یمنی شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔
اسی اثنا میں یمن کے ایک پریس ذریعے نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے یمن کے اسٹریٹیجک جزیرے سقطری میں صیہونی افسروں کو منتقل کئے جانے کی خبر دی ہے۔
یمن کے الثورہ اخبار نے مقامی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے خلیفہ بن زائد آل نہیان فاؤنڈیشن کے تحت انسان دوستانہ اقدامات کے دائرے میں متحدہ عرب امارات کے افسروں کے ساتھ ساتھ کچھ صیہونی افسر بھی یمن کے اسٹریٹیجک جزیرے سقطری منتقل ہوئے ہیں۔
اس اخبار نے لکھا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اپنے طیاروں کی پروازوں کے لئے ایئربیس کا افتتاح، اسرائیلی افسروں اور غیر ملکی سیاحوں کی الارخبیل منتقلی، سقطری کے سفر کے لئے یمنی طیاروں کی پروازوں کی روک تھام اور اسی طرح یمنی شہریوں کو اس جزیرے میں جانے سے روکنے سے متعلق اقدامات، یمن کی قومی حاکمیت اور قومی اقتدار اعلی کی بھرپور خلاف ورزی اور یمن کے تشخص اور اس کی جغرافیائی پوزیشن کو براہ راست نشانہ بنائے جانے کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ جنوبی یمن کی انتقال اقتدار کونسل سے وابستہ مسلح افراد نے گذشتہ سال جون کے مہینے سے یمن کے جزیرہ سقطری پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور اس ناجائز قبضے کے بعد سے ہی متحدہ عرب امارات نے اس اسٹریٹیجک جزیرے کے اہم مقامات پر اپنے فوجی اڈے قائم کرنا شروع کئے ہیں۔