تل ابیب اور مقبوضہ فلسطین کے دیگر شہروں پر فلسطینی استقامت کے تازہ میزائلی حملے , چین و سکون چھین لیا ہے القسام کے مجاہدوں نے
فلسطین کےاستقامتی محاذ نے غاصب صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں کے جواب میں اتوار کو تل ابیب اورمقبوضہ فلسطین میں صیہونی بستیوں پر شدید میزائلی حملے کئے ہیں - بن گورین ہوائی اڈے پر خطرے کے سائرن کافی دیر تک بجتے رہے بعض صیہونی حلقوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ اب فلسطینیوں کے میزائلی حملوں کی تاب نہیں لاسکتے -
فلسطین کی اسلامی استقامتی تحریک حماس کے فوجی بازو شہید عزالدین قسام بریگیڈ نے اعلان کیا ہے کہ استقامتی محاذ نے تل ابیب عسقلان ، سدیروت اور اشدود سمیت متعدد صیہونی بستیوں پر درجنوں راکٹ اور میزائل فائر کئے۔
ان حملوں کے بعد وہاں خطرے کے سائرن بجنے لگے۔ یہ حملے تل ابیب اور اشدود میں صیہونیوں کو پناہ گاہوں سے باہر نکلنے کے لئے دی جانے والی دو گھنٹے کی مہلت کے بعد کئے گئے۔
بعض میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطین کی تحریک مزاحمت کے ان حملوں میں دسیوں صیہونی ہلاک و زخمی ہوگئے۔
بن گورین ہوائی اڈے پر خطرے کے سائرن کافی دیر تک بجتے رہے بعض صیہونی حلقوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ اب فلسطینیوں کے میزائلی حملوں کی تاب نہیں لاسکتے - جہاد اسلامی نے کہا ہے کہ وہ اس جنگ میں اپنے نئے اور جدید میزائلوں کا استعمال کررہا ہے-
غاصب صیہونی حکومت نے حال ہی میں بیت المقدس اور غزہ کو اپنے وحشیانہ ترین حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ فلسطینی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں نے اتوار کی صبح ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں غزہ میں سو سے زائد مقامات کو جارحیت کا نشانہ بنایا اور ان مقامات پر بمباری کی۔
غزہ پر صیہونی فوج کی تازہ بربریت میں تحریک حماس کے رہنما یحیی السنوار کے مکان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
غاصب صیہونی حکومت کے وزیراعظم نتن یاہو نے اتوار کی صبح اپنے ایک ٹی وی خطاب میں انتہائی بے شرمی کے ساتھ غزہ میں فلسطینی خواتین اور بچوں کے قتل عام کو صحیح اور درست قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ غزہ کے علاقوں پر اس سے بھی زیاہ شدید حملے جاری رہیں گے۔
نتن یاہو نے اپنے خطاب میں فلسطینی عوام کو ایک بار پھر دھمکاتے ہوئے کہا کہ غزہ پر حملوں کا سلسلہ ابھی روکا نہیں گیا ہے اور جب تک ضرورت محسوس کی جائے گی یہ حملے جاری رکھے جائیں گے۔
فلسطین کی وزارت صحت نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ غزہ پر غاصب صیہونی حکومت کی جارحیت کے نئے دور کے آغاز سے اب تک ایک سو انتالیس فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں انتالیس بچے شامل ہیں جبکہ نو سو پچاس سے زائد دیگر فلسطینی زخمی ہوئۓ ہیں۔
مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد الاقصی کے صحن اور ان کے آس پاس کے علاقے خاص طور سے محلہ باب العامود حالیہ دنوں کے دوران فلسطینیوں پر غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں کے وحشیانہ ترین حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ بیت المقدس پر غاصب صیہونی فوجیوں کی تازہ جارحیت میں نو سو سے زائد فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔
بیت المقدس کے شہریوں نے تاکید کی ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کو مسجد الاقصی اور بیت المقدس کے خلاف سازشوں منجملہ اس شہر کو یہودیوں کا شہر بنانے اور زمان و مکان کے لحاظ سے مسجد الاقصی کی تقسیم کی اجازت ہرگز ںہیں دی جائیگی۔
مختلف فلسطینی گروہوں نے بھی اعلان کیا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کو مسجد الاقصی، بیت المقدس اور غزہ میں فلسطینیوں کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنانے کا خمیازہ بہرحال بھگتنا پڑے گا۔