Aug ۲۲, ۲۰۲۱ ۱۵:۵۷ Asia/Tehran
  • کابل ایئرپورٹ پر ایک بار پھر بھگدڑ مزید سات افراد ہلاک

کابل ہوائی اڈے پر ایک بار پھر افراتفری اور بھگدڑ کے نتیجے میں کم سے کم سات افغان شہری ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے ہیں- میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ کابل ایئر پورٹ کے حالات انتہائی سنگین اور افسوسناک ہیں۔

کابل کے بین الاقوامی ائیرپورٹ کی صورت حال مسلسل بحرانی ہے اور افراتفری کا سلسلہ جاری ہے۔ برطانوی فوج کا کہنا ہے کہ کابل ایئر پورٹ میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کے دوران بھگدڑ اور افراتفری مچ گئی جس کے نتیجے میں مزید سات افغان شہری ہلاک ہوگئے۔ غیر ملکی نشریاتی ادارے ایسوشی ایٹڈ پرس نے برطانوی فوج کے حوالے سے خبردی ہے کہ بیرون ملک جانے کے خواہشمند افغان شہریوں کی بھیڑ میں اس وقت افراتفری مچ گئی جب طالبان نے انہیں ایئر پورٹ میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے ہوائی فائرنگ کی- گزشتہ پیر کو بھی امریکی فوج کی فائرنگ میں کم سے کم سات افغان شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

 کابل ہوائی اڈے کے مسلسل ایسے دلخراش ویڈیو سامنے آ رہے ہیں جن میں وہاں غیرملکیوں اور افغان شہریوں کی بدحالی و پریشانی پوری طرح نمایاں ہے، ویڈیو میں ایسے کمسن بچے بھی نظر آرہے ہیں جو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں پہنچ رہے ہیں اور ایسے بچے بھی ہیں جو اپنی ماؤں سے بچھڑ گئے ہیں اور یہ مناظر سب سے زیادہ دردناک اور تکلیف دہ ہیں۔

 درایں اثنا افغانستان میں امریکی سفارت خانے نے امریکی  شہریوں سے کہا ہے کہ وہ کابل ایئرپورٹ پرنہ جائیں۔ دوسری جانب افغانستان کے سابق صدر اور قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ نے طالبان کے سیاسی شعبے کے اراکین سے ملاقات کی ہے۔

افغان نیوز ایجنسی آوا کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے سوشل میڈیا پراطلاع دی ہے کہ انھوں نے طالبان کے سیاسی شعبے کے رکن شہاب الدین دلاور، عبدالسلام حنفی ، خیراللہ خیرخواہ اور عبداللہ فدا سے ملاقات کی ہے اور اس موقع پر سابق افغان صدر حامد کرزئی، فضل الھادی مسلم یار، عطاء الرحمان سلیم ، ادیب فھیم اور اس ملک کی دیگر قومی اور سیاسی شخصیات موجود تھیں۔

عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ اس اجلاس میں موجودہ حالات ، عوامی سیکورٹی ، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی حل اور قومی اقدار کے احترام پر مفید گفتگو انجام پائی۔

اس سے قبل بھی عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی نے طالبان کے منصوب کردہ کابل کے گورنر سے ملاقات اور گفتگو کی تھی۔

 دوسری جانب افغانستان میں روس کے سفیر نے اعلان کیا ہے کہ جب سے طالبان نے کابل اور افغانستان کے ایک بڑے حصے کا کنٹرول سنبھالا ہے اس وقت سے اس گروہ کے خلاف کوئی بھی احتجاجی مظاہرہ نہیں ہورہا ہے اورمعمول کی زندگی بحال ہوگئی ہے۔

ایسنا کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں روس کے سفیر دیمیتری ژیرنوف نے اتوار کو کہا کہ کابل کے حالات مسلسل آٹھویں روز بھی بہتراور معمول کے مطابق ہیں۔ یہاں تک کہ دکانیں کھل گئی ہیں اور طالبان نے اس شہر کا نظم و نسق سنبھال لیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ حقیقت امریہ ہے کہ طالبان سے پہلے کسی کی زندگی نارمل نہیں تھی کیونکہ کابل میں داعش فعال تھے۔

 

 

ٹیگس